Al-Risala · May 2006 · page 25

جنت کا استحقاق

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۵

روشنی کا مینار بن سکے۔ جو زلزلوں اور طوفانوں کے درمیان سکون کا راز پالے۔ جو نفرتوں کے درمیان محبت کا ثبوت دے۔ جو لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود یک طرفہ طور پر انھیں معاف کر دے۔ جو کھونے میں بھی پانے کا تجربہ کرے۔

جنتی انسان وہ ہے جو بظاہر خدا سے دور ہوتے ہوئے بھی خدا سے قریب ہو گیا ہو۔ جو سورج کی شعاعوں میں خدا کے نور کو دیکھے۔ جو ہواؤں کے جھونکے میں لمس ربانی کا تجربہ کرے۔ جو پہاڑوں کی بلندی میں خدا کی عظمت کا تعارف حاصل کر سکے۔ جو دریاؤں کی روانی میں خدا کی رحمت کا مشاہدہ کرے ۔ جو مخلوقات کے آئینے میں خالق کا جلوہ دیکھنے لگے۔

خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے یہ بتا دیا ہے کہ جنتی انسان کی صفات کیا ہوتی ہیں ۔ جو لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے اندر جنتی صفات پیدا کریں، وہ موت کے بعد جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے ۔

جنت میں داخلہ نہ کسی سفارش کی بنیاد پر ہوگا، نہ کسی کے ساتھ نسبت کی بنیاد پر اور نہ کسی پراسرار عملیات کی بنیاد پر ۔ جنت میں داخلہ پوری طرح معلوم حقیقت پر مبنی ہے ۔ اور وہ یہ کہ جو آدمی موجودہ دنیا میں اپنے قول و عمل کے اعتبار سے جنتی انسان بن کررہے گا، وہ آخرت کی جنت میں داخلہ پائے گا ۔ قرآن کے مطابق، جنت اہل تزکیہ کے لئے ہے (طہٰ: 76)۔ تزکیہ یہ ہے کہ آدمی غفلت کی زندگی کو ترک کرے اور شعور کی زندگی کو اپنائے ۔ وہ اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچائے جو حق سے روکنے والی ہیں ۔ مصلحت کی رکاوٹ سامنے آئے تو اس کو نظر انداز کر دے۔ نفس کی خواہش ابھرے تو وہ اس کو کچل دے۔ ظلم اور گھمنڈ کی نفسیات جاگے تو وہ اس کو اپنے اندر دفن کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page