حج کا سانحہ
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۶
حج کا سانحہ
اس سال حج کی ادائیگی کے موقع پر ۱۲ جنوری ۲۰۰۶ء کو ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق، اس سال تقریبا ۲۶ لاکھ مسلمان حج کی ادائیگی کے لیے مکہ پہنچے تھے۔ یہ لوگ ساٹھ ملکوں سے آئے تھے۔ اتنے بڑے مجمع میں اگر لوگ با شعور نہ ہوں تو ہمیشہ کوئی نہ کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آئے گی۔ چنانچہ جمرات پر کنکری پھینکنے کی سنت ادا کرنے کے لیے لوگ بڑی تعداد میں وہاں جمع ہو گئے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ لوگ ہجوم کر کے جمرات کی طرف آگے بڑھے۔ اس اثنا میں ایک معمولی واقعے پر مجمع میں بھگدڑ مچ گئی، جس کے نتیجے میں 362 آدمی دب کر مر گئے اور ایک ہزار سے زائد عورت اور مرد زخمی ہو گئے۔ حج کے موقع پر اس طرح کا حادثہ تقریبا ہر سال پیش آتا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کا اصل سبب دریافت کیا جائے۔ اصل سبب کو دریافت کیے بغیر اس صورت حال کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کے حادثات کا اصل سبب یہ ہے کہ لوگ حج کو مخصوص مراسم(rituals) کی ادائیگی کا ایک معاملہ سمجھتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ حج کے کچھ ظاہری مراسم ہیں، اور ان کی ادائیگی ضروری ہے، لیکن اصل اہمیت روح (spirit) کی ہے، مراسم کی حیثیت اضافی ہے، اور روح کی حیثیت حقیقی۔ اسی ذہن کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جب جمرات کے مقام پر پہنچتے ہیں تو وہ بھول جاتے ہیں کہ جمرات پر کنکریاں پھینکنے کا معاملہ رسمی رمی (symbolic stoning) کا معاملہ ہے، نہ کہ سچ مچ ہی شیطان کو پتھر مارنے کا معاملہ۔ جیسا کہ معلوم ہے، منی کے مقام پر جن جمرات پر کنکری ماری جاتی ہے، وہ خود شیطان نہیں ہوتا، بلکہ وہ پتھر کی صورت میں شیطان کی صرف ایک مادی علامت ہوتی ہے۔ جب حاجی کنکری پھینکتا ہے تو اس کی کنکری خود شیطان کو نہیں مارتی بلکہ وہ اس کے علامتی پتھر پر جا کر گرتی ہے۔ لیکن جذبات کے وفور میں لوگ اس فرق کو بھول جاتے ہیں، اور رمی کے وقت اس طرح جوش میں آجاتے ہیں جیسے کہ وہ خود شیطان پر سنگ باری کر رہے ہوں۔ اگر ایسا ہوتا کہ شیطان مجسم ہو کر ایک زندہ وجود کی صورت میں وہاں موجود ہوتا تو شیطان کو مارنے کے لیے یہ ضروری ہوتا کہ حاجی کی ہر کنکری شیطان کے جسمانی وجود پر جا کر گرے۔ لیکن علامتی طور پر مارنے کی بنا پر اس کی حیثیت بدل جاتی ہے۔