Al-Risala · May 2006 · page 27

حج کا سانحہ

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷

یہ ایک حقیقت ہے کہ شیطان کو کنکری مارنا، مکمل طور پر ایک علامتی فعل ہے، نہ کہ حقیقی فعل۔ یہی وجہ ہے کہ شرعی مسئلے کے مطابق، حاجی کی کنکری کا جمرہ پر گرنا ضروری نہیں۔ اسی طرح حاجی اگر کمزور ہے اور مجمع میں گھس کر جمرہ کے قریب پہنچنا اس کے لیے مشکل ہے تو وہ نیابۃً بھی کنکری مار سکتا ہے۔ یعنی وہ اپنی کنکری کسی دوسرے شخص کو دے دے اور وہ اس کی طرف سے اس کو جمرہ کی طرف پھینک دے۔

اگر لوگ شعوری طور پر اس بات کو جانیں کہ وہ زندہ شیطان کو کنکری نہیں مار رہے ہیں بلکہ وہ شیطان کے علامتی پتھر پر، صرف علامتی طور پر کنکری پھینک رہے ہیں تو رمی کے واقعے میں جذبات کا وفور شامل نہ ہوگا، بلکہ رمی کا واقعہ ایک سادہ واقعہ بن جائے گا۔ رمی کے موقع پر حاجیوں کے اندر جوش کا پیدا ہونا، صرف اس لیے ہوتا ہے کہ وہ غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ خود شیطان کو پتھر مار رہے ہیں۔ اگر ان کے ذہن میں یہ بات موجود ہو کہ یہ صرف علامتی رمی (symbolic stoning) ہے تو یہ معاملہ جذباتی جوش وخروش کا معاملہ نہ بنے بلکہ صرف ایک سادہ کارروائی کے طور پر اس کی ادائیگی ہو جائے۔

ہر سال حج سے پہلے حج کی تعلیم وتربیت کے نام پر لوگوں کو حج کے طریقے بتائے جاتے ہیں۔ اور مختلف قسم کی دعاؤں کے الفاظ یاد کرائے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ حاجیوں کی وطن سے روانگی کے وقت سے لے کر مکہ پہنچنے تک، حتی کہ خود جہاز کے اندر جاری رہتا ہے۔ مگر یہ تمام تعلیم وتربیت حج کے ظاہری مراسم کو بتانے کے لیے ہوتی ہے۔ میرے علم کے مطابق ، کوئی ایسا نہیں کرتا کہ وہ حج کی اصل اسپرٹ کو بتائے۔ اس کے نتیجے میں ہر حاجی کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ حج کی بجا آوری کچھ بے روح مراسم کی صحتِ ادائیگی کا نام ہے، اسپرٹ یا شعور کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ میرے تجربے کے مطابق ، اسی مخصوص مزاج نے سارے مسائل پیدا کیے ہیں۔ ایسے موقع پر اکثر لوگ سعودی حکومت کو ذمے دار ٹھہرا کر انتظامی اصلاح کی تجویزیں پیش کرتے ہیں۔ اس قسم کی تجویزیں بے فائدہ ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ حاجیوں کی ذہن سازی کی جائے۔ ان کی شعوری تربیت کی جائے۔ مثال کے طور پر رمی جمرات کے سلسلے میں انھیں بتایا جائے کہ تم خود شیطان پر ضرب نہیں لگارہے ہو بلکہ علامتی طور پر خدا پر اپنے اندر یہ زندہ ارادہ پیدا کر رہے ہو کہ تم شیطان کے وسوسوں کا اثر نہیں لو گے بلکہ شیطان کو اپنے سے دور بھگا کر خدا کے احکام کی پیروی کرو گے۔ یہی اس مسئلے کا حقیقی حل ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page