کارٹون کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۸
کارٹون کا مسئلہ
شمالی یورپ کا ایک علاقہ ہے جس کو اسکینڈینیویا کہتے ہیں۔ اس علاقے میں چار ممالک واقع ہیں ۔ سویڈن، ناروے، فن لینڈ اور ڈنمارک (Denmark) ۔ یہاں کی آبادی میں تقریباً 2 لاکھ مسلمان ہیں ۔ اسکینڈینیویا یورپ کا ایک پُرامن خطہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ مگر پچھلے چند مہینوں سے وہ برعکس انداز میں، میڈیا میں نمایاں ہورہا ہے۔
ڈنمارک میں ڈینش (Danish) زبان لکھی اور بولی جاتی ہے۔ ایک ڈینش اخبار شیلانڈس پوسٹین (Jyllands Posten) کے شمارہ ۳۰ ستمبر ۲۰۰۶ میں ایک کارٹون چھپا۔ کارٹون، جدید صحافت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کارٹون کا مقصد نہ تعریف ہے اور نہ توہین۔ کارٹون دراصل صحافت کا ایک تفنن آمیز جزو (Comic item) ہے۔ چنانچہ عام طور پر لوگ کارٹون کو دیکھ کر یا تو اس سے محظوظ ہوتے ہیں یا سادہ طور پر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔
تاہم ڈنمارک کے اخبار کا مذکورہ کارٹون مسلمانوں کے لیے سخت قابل اعتراض ثابت ہوا۔ قصہ یہ تھا کہ اس اخبار میں ایک مضمون کے تحت کچھ کارٹون شامل کیے گئے ۔ ان میں پیغمبر اسلام ﷺ کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔ مثلاً ایک کارٹون میں دکھایا گیا تھا کہ پیغمبر اسلام اپنے ہاتھ میں ایک چھری لیے ہوئے ہیں اور آپ کے سر پر ایک پگڑی ہے جس کے اوپر بم رکھا ہوا ہے۔
اس کارٹون کی خبر جب عام ہوئی تو ہر جگہ کے مسلمان اِس کو دیکھ کر یا اس کو سُن کر مشتعل ہوگئے ۔ ان کے نزدیک یہ کارٹون پیغمبر اسلام کی توہین کے ہم معنی تھا۔ جو کہ مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت حد تک قابل اعتراض ہے۔
چنانچہ ساری دنیا میں مسلمانوں نے اس کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے۔ بڑے بڑے جلوس نکالے گیے۔ ڈنمارک کے سفارت خانوں میں آتش زنی اور توڑ پھوڑ ہوئی ۔ ان پُرشور مظاہروں میں کئی افراد مارے گئے اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے ۔ دنیا کے مختلف حصوں میں یہ مظاہرے اتنے