Al-Risala · January 2006 · page 22

آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۲

قتال کریں اور آپ ہیں کہ کافروں اور مومنوں کو ایک ہی قوم ثابت کرنے کی سعی لا حاصل میں ہلکان ہو رہے ہیں۔ (محمد صدیق، اسلام آباد)

جواب

۱۔ قرآن سے جب یہ ثابت ہو جائے کہ پچھلے نبیوں نے اپنے غیر مسلم مخاطبین سے کہا تھا کہ:”اے میری قوم‘ تو یہی اسوہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ قرار پائے گا۔ کیوں کہ قرآن میں رسول اللہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: تم بھی وہی کرو جو پچھلے انبیا نے کیا۔ فبهداهم اقتده (الأنعام ۹۰)

روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً بھی یہی کیا۔ چنانچہ غزوہ اُحد کے موقع پر آپ کے مخالفین نے آپ کے اوپر پتھر مارا جو آپ کے چہرے پر لگا، اس سے آپ کے چہرے سے خون جاری ہوگیا۔ اُس وقت آپ نے ایک پچھلے رسول کے اُسوہ پر عمل کیا۔ عبداللہ بن مسعود اس واقعے کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: كأنى أنظر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يحكى نبيا من الأنبياء ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وهو يمسح الدم عن وجهه ويقول : رب اغفر لقومي فإنهم لا يعلمون ( صحیح مسلم، بشرح النووی جلد ۱۲، ۱۵۰) یعنی’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں۔ وہ نبیوں میں سے ایک نبی کا حال بیان کر رہے ہیں جس کو اْس کی قوم نے مار کر زخمی کیا۔ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! تو میری قوم کو معاف فرمادے کیوں کہ وہ جانتے نہیں۔ ‘‘ اس معاملے میں جو کچھ میں نے کہا ہے وہ نص پر مبنی ہے۔ جب کہ آپ نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ تمام تر قیاس اور استنباط پر مبنی ہے۔ اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ قیاس اور استنباط کے ذریعے کسی نص کی تردید نہیں ہوتی۔

۲۔ اس معاملے میں آپ جیسے لوگوں کی اصل مشکل یہ ہے کہ آپ نے انسانیت کو مستقل طور پر دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ مسلم اور کافر۔ اس تقسیم کی بنا پر آپ لوگوں کے نزدیک ایک

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page