تعلیم سب کچھ ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۰
خطاب کے لیے صدر اسلامی مرکز کو دعوت دی گئی۔ اس موقع پر انھوں نے پینتالیس منٹ کی ایک تقریر کی:
Image and Reality of Islam تقریر کے بعد سوال و جواب ہوا۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔
۶۔ آزادی ہند (۱۹۴۷) کے بعد ہندوستان میں، خاص طور پر پنجاب اور ہریانہ کے علاقے میں مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گیے۔ اس موقع پر مہاتما گاندھی اٹھے۔ ۱۹ دسمبر ۱۹۴۷ کو وہ میوات کے علاقہ گھاسیڑہ گئے۔ یہاں اطراف کے دس ہزار مسلمان اکٹھا ہوئے۔ مہاتما گاندھی نے تقریر کرتے ہوئے کہ انڈیا آپ کا وطن ہے، آپ کو یہاں بے خوف ہو کر رہنا چاہیے۔ اس کے بعد مسلمانوں میں استحکام آ گیا۔ اس تاریخی دن کی یاد میں ۱۹ دسمبر ۲۰۰۵ کو گھاسیڑہ میں ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کا انتظام ڈاکٹر راجیند رپرشاد اور مولا ناشیر محمد امینی وغیرہ نے کیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی، اور امن اور اتحاد کی اہمیت پر ایک تقریر کی۔ ۷۔ ۲۲ دسمبر ۲۰۰۵ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی (شعبہ اردو) کے اسٹوڈیو میں صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے انٹرویور مسٹر انوار احمد تھے۔ آدھ گھنٹے کے اس انٹرویو کا موضوع صدر اسلامی مرکز کی حیات اور اُن کا مشن تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ کو عام طور پر ماڈرن مولوی سمجھا جاتا ہے، کیا یہ صحیح ہے۔ بتایا گیا کہ ماڈرن مولوی ایک صحیح چیز کا غلط نام ہے۔ اصل یہ ہے کہ حدیث کے مطابق، عالم کو اپنے زمانے سے باخبر ہونا چاہیے (أن يكون بصيراً بزمانه) علماء عام طور پر صرف مدرسے کی تعلیم پر اکتفاء کرتے ہیں۔ میں نے یہ کیا کہ مدرسے کی باقاعدہ تعلیم کے بعد پرائیویٹ طور پر انگریزی پڑھی اور پھر جدید علوم کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس کے بعد میں نے اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش کی تا کہ وہ جدید ذہن کے لیے قابل فہم اور قابل اعتماد ہو سکے۔ ۸۔ ۹ جنوری اور ۱۰ جنوری ۲۰۰۶ کو حج اور عید الاضحی کے تعلق سے کئی ٹی وی چینل نے صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا— اسٹار نیوز، دور درشن، آج تک، ای ٹی وی۔ دور درشن نے اپنے تین چینل کے لیے ریکارڈنگ کی۔ ہر انٹرویو میں حج اور عید الاضحی کے بارے میں وضاحت کی گئی۔ انٹرویو میں بتایا گیا کہ یہ تہوار اس لیے ہیں تاکہ عبادت اور قربانی اور انسانی قدروں کو لوگوں میں فروغ دیا جائے۔ ۹۔ برون کمار (Mr. Barun Kumar) نئی دہلی میں ایم۔ اے۔ جنرل ازم کا کورس کر رہے ہیں۔ (Tel: 9873031260) انھوں نے یونیورسٹی پروگرام کے تحت، ۱۲ جنوری ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ موجودہ زمانے میں اسلام کی تصویر تشدد پسند مذہب کی ہو گئی ہے۔ اس کا الزام عام طور پر میڈیا کو دیا جاتا ہے مگر صحیح بات یہ ہے کہ اس کے ذمے دار خود مسلمان ہیں۔ میڈیا، سنسنی خیز خبروں کو منتخب کرتا ہے۔ مسلمان اگر سنسنی خیز خبریں ظہور میں نہ لائیں تو اُن کی رپورٹنگ بھی میڈیا میں نہیں ہوگی۔