Al-Risala · May 2006 · page 41

تعلیم سب کچھ ہے

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۱

۱۰- سعودی عرب کے عربی روزنامہ عکاظ کے نمائندہ فہیم الحامد نے ۱۸ جنوری ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ ہمارا مرکز امن اور ٹرر ازم کے اشتوپر کیا کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں انھیں ضروری معلومات دی گئیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ہندوستان کی حکومت اور انڈین کمیونٹی دونوں حقیقت پسند لوگ ہیں۔ اس لیے یہاں اسلام اور مسلمانوں کے لیے کوئی غیر ضروری مسئلہ نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ سعودی کنگ کا سفر ہند نہایت مفید ثابت ہوگا۔ اس سے انڈیا اور سعودی عرب کے تعلقات اور زیادہ بہتر ہو جائیں گے۔

۱۱- ایک عرب میڈیا کمپنی (Al-baath, News Paper, Aleppo-Syria) کی ٹیم نے ۲۰ جنوری ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو ر ڈاکٹر محمد بسام النعستان (Dr. M.B. Na'assan) تھے۔ سعودی حکمراں ملک عبداللہ ۲۶ جنوری ۲۰۰۶ کو دہلی آنے والے ہیں۔ اسی نسبت سے یہ انٹرویو تھا۔ مختلف سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ سعودی عرب اور انڈیا کے درمیان تعلقات بہت اچھے ہیں، اور اس دورے کے بعد یقینی طور پر اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ انڈیا میں سیکولر نظام ہے جو مسلمانوں کے لیے بہت مفید ہے۔ اسلامی مرکز اور CPS اور الرسالہ مشن کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہمارا مقصد اسلام کی پر امن اور مثبت تعلیمات کا تعارف ہے۔ ہندوستان میں پر امن اسلامی دعوت کے بہترین مواقع موجود ہیں۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم وسیع پیمانے پر اسلامی دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ ۱۲- انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز، واردھا کے تحت، تعارف مذاہب کا ایک پروگرام ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ ۲۵ جنوری ۲۰۰۶ کو پورا دن انھیں دیا گیا۔ اس طرح اسلام کے تفصیلی تعارف کا موقع ملا۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ لوگوں نے بہت پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ایک صاحب نے کہا:

Today we have re-discovered the religion of Islam. اس موقع پر کامٹی کے حلقہ الرسالہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ یہ لوگ کامٹی میں منظم انداز میں دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے واردھا کے پروگرام کا مکمل ویڈیو ریکارڈ بھی تیار کیا۔ اس سلسلے میں ایک دن ناگپور شہر میں گذرا۔ یہاں بھی ملاقات اور گفتگو کے انداز میں کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور اسلام کے بارے میں سوالات کی وضاحت کا موقع ملا۔ سفر میں ہر جگہ انگریزی لٹریچر بھی لوگوں کو دیا گیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز میں اس سے پہلے بھی اس قسم کے دو پروگرام ہو چکے ہیں۔ موجودہ پروگرام اس نوعیت کا تیسرا پروگرام تھا۔ پچھلے دونوں پروگراموں کی روداد سفر نامے کے تحت، الرسالہ میں شائع ہو چکی ہے۔ موجودہ پروگرام کی روداد بھی انشاء اللہ سفر نامے کے تحت، ماہ نامہ الرسالہ میں شائع کی جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page