تعلیم سب کچھ ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۲
۱۳۔ نئی دہلی (پرگتی میدان) میں انٹرنیشنل بک فئر ہوئی۔ وہ ۲۷جنوری ۲۰۰۴ سے لے کر ۶ فروری تک جاری رہی۔ اس بک فئر میں گڈ ورڈ (Goodword) اور سی۔ پی۔ایس۔ کی طرف سے اسٹال لگایا گیا۔ لوگ بڑی تعداد میں یہاں آئے۔ سی۔پی۔ایس۔ کی ٹیم کے افراد ہر وقت وہاں موجود رہتے تھے۔ بڑے پیمانے پر لوگوں سے اسلام کے موضوع پر تبادلۂ خیال ہوا۔ لوگوں کو دعوتی بروشر تقسیم کیے گئے۔ اس کے علاوہ لوگوں نے انگریزی اور اردو اور ہندی میں چھپی ہوئی اسلام پر کتابیں حاصل کیں۔ اس موقع کے لیے خصوصی طور پر یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جو شخص ایک سو روپے کی کتابیں خریدے گا، اُس کو ماہ نامہ الرسالہ ایک سال کے لیے فری جاری کیا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ عام طور پر لوگوں نے سی۔ پی۔ایس۔ کے مشن سے گہرا اتفاق ظاہر کیا۔ لوگوں کو جب سی۔پی۔ایس۔ کے دعوتی بروشر دئے گئے تو انھوں نے اُس کو اس طرح لیا جیسے وہ اسی کی تلاش میں تھے۔ غیر مسلم حضرات خصوصاً نوجوان مردوں اور عورتوں نے انگریزی اور ہندی قرآن بہت بڑی تعداد میں حاصل کیے۔ ۱۴۔ ورلڈ کونسل آف ریلیجنس (World Council of Religious) کے زیر اہتمام ۲۹ جنوری ۲۰۰۶ کو ایک کنونشن ہوا۔ اس کنونشن کا انعقاد نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (روم نمبر ۲) میں کیا گیا۔ اس میں مختلف بڑے مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کا عنوان یہ تھا:
Promoting Commonalities among diverse faiths for world peace. اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی، اور اسلام کی روشنی میں موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس سلسلے میں انھوں نے کہا کہ اسلام کی تمام تعلیمات امن کے تصور پر مبنی ہیں۔ کیوں کہ امن کے بغیر کوئی تعمیری کام نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ جائز ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو کسی بھی حال میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں۔ ۱۵۔ حسب معمول ۵ فروری ۲۰۰۶ کو اتوار کا اسپرچول کلاس ہوا۔ یہ کلاس نظام الدین ویسٹ مارکیٹ میں مرکز کی بلڈنگ میں ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ پابندی کے ساتھ جنوری ۲۰۰۱ سے جاری ہے۔ ۵ فروری کی کلاس کی حسبِ معمول ویڈیو ریکارڈنگ بھی ہوئی۔ اس میں درس کا موضوع توحید تھا۔ اس میں سی۔ پی۔ ایس کا مشن ان الفاظ میں بتایا گیا: Our mission is to proclaim the glory of God ۵ فروری کے اسپرچول کلاس میں زیادہ لوگ آئے تھے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ حالیہ بک فئر کے موقع پر سی۔ پی۔ایس کی ٹیم نے لوگوں کو ہفتے وار اسپرچول کلاس کا تعارف کرایا تھا، اور لوگوں کو دعوت دی تھی کہ وہ یہاں آ سکتے ہیں۔ چناں چہ بہت سے نئے لوگ ۵ فروری کے کلاس میں شریک ہوئے۔
۱۶۔ ٹائم لائف (Time-Life) کے نمائندہ مسٹر احمد حسن قدوائی (Tel. 9873107411) نے ۶ فروری ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام میں عورت کے مقام کے بارے میں تھا۔ اس سلسلے میں انھیں قرآن اور حدیث کی روشنی میں ضروری معلومات دی گئیں۔