Al-Risala · January 2006 · page 23

آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۳

طرف ابدی معنوں میں ایک قوم ، مسلم قوم بن گئی ہے اور دوسری طرف ابدی معنوں میں ایک قوم، غیر مسلم قوم ۔ یہ تقسیم سراسر غلط ہے۔ نہ مسلمان کسی نسلی گروہ کا نام ہے اور نہ کافر کسی نسلی گروہ کا نام۔ دونوں ہی کا مدار اس پر ہے کہ کس کو معرفتِ خداوندی ملی اور کس کو معرفتِ خداوندی نہیں ملی۔ اس لیے مسلسل ایسا ہوگا کہ مسلمانوں کی بعد کی نسلیں اسلام سے دور ہوتی رہیں گی اور غیرمسلموں میں سے لوگ سچائی کی دریافت کر کے مسلم بنتے رہیں گے۔ اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ قومیت کا مدار مذہب پر نہ ہو بلکہ ہوم لینڈ پر ہو۔ کیوں کہ مذہب کی تقسیم بدلتی رہتی ہے ، جب کہ ہوم لینڈ کی تقسیم عموماً نہیں بدلتی۔ ۳۔ آپ جیسے بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں "نسل آدم تمدنی عروج پر پہنچ گئی تھی"۔ یہ ایک فرضی دعویٰ ہے، جس کی تصدیق نہ قرآن سے ہوتی ہے اور نہ تاریخ سے۔ قرآن میں پچھلی اُمتوں کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: وعمروہا اکثر مما عمروہا (الروم 9) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زمانہ رسالت کے مقابلے میں پچھلے زمانے کے لوگ زیادہ بڑے پیمانے پر تمدنی ترقی حاصل کر چکے تھے۔

جہاں تک تاریخ کی بات ہے تو اس قسم کا دعویٰ واضح طور پر بے بنیاد دعویٰ ہے۔ رسول اللہ کا زمانہ قبل سائنس دور (pre-scientific era) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بعد وہ حالات پیش آئے جن کو بعد سائنس دور (post-scientific era) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ قبل سائنس دور میں انسانی تمدن جس درجے پر تھا ، اُس کے مقابلے میں بعد سائنسی دور میں انسانی تمدن سیکڑوں گُنا زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ "تمدنی عروج" کا مذکورہ دعویٰ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

سوال

میں کافی عرصے سے تقریباً جب سے ہوش سنبھالا تب ہی سے حق کی تلاش میں سرگرداں ہوں ۔ یقیناً کسی چیز کو پانے کے لیے محنت پہلی شرط ہے۔ اس حق کی تلاش میں تمام دینی جماعتوں کو دیکھنے سمجھنے کا موقع ملا مگر کہیں بھی دل پوری طرح مطمئن نہ ہوا۔ میری عادت ہے کہ میں خاموش مطالعہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page