Allon, Israel
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۳
۱۷۔ دور درشن (نئی دہلی) پر ۹ فروری ۲۰۰۶ کو صدر اسلام مرکز کی ایک تقریر لائیو ٹیلی کاسٹ کے تحت نشر کی گئی۔ وہ ۱۰ محرم اور حضرت حسین کی یاد پر تھی۔ تقریر میں بتایا گیا کہ ۱۰ محرم ۶۱ ہجری کو حضرت حسین کی شہادت کی صورت میں جو واقعہ ہوا وہ تاریخی اعتبار سے خود حضرت حسین کی طرف سے کسی جارحیت کے سبب سے نہ تھا۔ حضرت حسین، پر امن مشن کے تحت مکہ سے روانہ ہوئے تھے۔ مگر کوفہ (عراق) کی سرحد پر شمر بن جوشن نے انھیں لڑنے پر مجبور کر دیا۔ اس زمانے میں اگر ٹیلی فون موجود ہوتا تو یہ جنگ نہ ہوتی۔ کیوں کہ حضرت حسین یا یزید کی فوج کا افسر کوفہ سے دمشق ٹیلی فون کر کے یزید سے پوچھتا اور یزید یقینی طور پر ان کو جنگ سے روک دیتا۔ اس جنگ کی یزید کو کوئی خبر نہ تھی ۔ بعد کو جب اس کو خبر ملی تو اُس نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔
۱۸۔ ۱۲ فروری ۲۰۰۶ کو حسب معمول اتوار کا اسپرچول کلاس ہوا۔ اب اس کلاس میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ حسب معمول اس کی ویڈیو ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔ تقریر کا موضوع زکوٰۃ تھا۔ لوگوں نے بہت دل چسپی کے ساتھ سُنا۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ زکوٰۃ کی مد میں سال میں ڈھائی فیصد کی رقم ایک علامتی چیز ہے۔ وسیع تر مفہوم میں زکوٰۃ زندگی کے کامل تزکیہ و تطہیر کا نام ہے۔ زکوٰۃ کا توسیعی پہلو قرآن کی ایک سورہ میں اس طرح آیا ہے: وہم للزکوٰة فاعلون (المؤمنون: ۴)۔ اس آیت میں یؤدون کے بجائے فاعلون کا لفظ آیا ہے۔ یعنی تزکیہ کا فعل کرنا۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ایسے اسباب ہیں جو ہر وقت انسان کو آلودہ کرتے رہتے ہیں۔ اس آلودگی سے بچا کر اپنے آپ کو مزکیٰ (پاکیزہ) بنانا، اسلامی زندگی کا اصل نشانہ ہے۔ زکوٰۃ اسی عمل کے لیے ایک علامتی فعل ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو دنیوی آلودگی سے بچائیں اور اپنے اندر پاکیزہ شخصیت کی تعمیر کریں وہی آخرت میں جنت کے مستحق قرار پائیں گے۔
۱۹۔ اسلامی مرکز میں ملک اور ملک کے باہر سے غیر مسلم افراد برابر آتے رہتے ہیں۔ اُنھیں اسلامی لٹریچر دیا جاتا ہے، اور اسلام کے موضوعات پر ان کے سوالات کا اطمینان بخش جواب دیا جاتا ہے۔ ۱۲ فروری ۲۰۰۶ کو حسب ذیل تین افراد مرکز میں آئے :
Brahma Rupa, U.S.a. (Tel: 989937114)
Jemal, Italy. (Tel: 9873239980)
Allon, Israel
پہلے دونوں صاحبان فی الحال گڑگاؤں میں ہیں، ان لوگوں سے نہایت تفصیل کے ساتھ اسلام کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ ان کا ایک سوال خدا کے تصور کے بارے میں تھا۔ بتایا گیا کہ آرین مذاہب میں خدا کا تصور وحدت وجود (monoism) کے تصور پر مبنی ہے۔ لیکن اسلام میں توحید (monotheism) کا تصور ہے۔ اسی طرح جہاد کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جہاد اصلًا پر امن دعوتی جدوجہد کا نام ہے۔ موجودہ زمانے میں