Al-Risala · June 2006 · page 3

مہاراشٹر کا سفر

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۳

یہ کانفرنس یونسکو (UNESCO) کی ۶۰ ویں سالگرہ کے موقع پر کی گئی۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے مجھ کو اس کا دعوت نامہ مورخہ ۲۷ دسمبر ۲۰۰۵ موصول ہوا جس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے:

Vision of UNESCO for the 21st century— Education for Peace and Sustainable Development. اس دعوت نامے کے بعد ان کی طرف سے کئی ٹیلی فون آئے مگر میں اس شرکت کا فیصلہ نہیں کر سکا۔ انھوں نے خود سے ائیر سہارا (Air Sahara) کے دورٹن ٹکٹ بھی بھیج دئے۔ ایک میرے لئے اور ایک میرے ساتھی کے لئے۔ مگر میں بعض وجوہ سے اس میں شرکت کا پروگرام نہ بنا سکا۔ آخر کار ۲۴ جنوری کو ان کا ٹکٹ بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیا گیا۔

۲۴ جنوری کو جب میں سفر پر روانہ ہوا تو حج کے موقع پر ۱۲ جنوری ۲۰۰۶ کو پیش آنے والے واقعے کا چرچا بھی تک جاری تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے ۱۲ جنوری کو رمی جمرات (شیطان کو کنکر مارنے) کے موقع پر وہاں بھگڈر ہوئی اور اس میں دب کہ ۳۶۲ آدمی مرگئے۔ شیطان کو علامتی طور پر مارنے کے جوش میں لوگوں نے انسان کو حقیقی طور پر مار ڈالا۔

اس قسم کا حادثہ تقریباً ہر سال پیش آتا ہے۔ جہاں تک میں نے سمجھا ہے اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگ ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق کرنا نہیں جانتے۔ رمی جمرات کے موقع پر شیطان کو مارنا صرف علامتی سنگ باری (symbolic stoning) کے طور پر ہوتا ہے نہ کہ حقیقی طور پر۔ لیکن فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ خود زندہ شیطان کو مار رہے ہیں۔ اسی بے خبری کا نتیجہ جوش و خروش ہے۔ اگر لوگ شعوری طور پر یہ سمجھیں کہ رمی جمرات کا یہ معاملہ ایک علامتی معاملہ ہے نہ کہ حقیقی معاملہ، اگر لوگ اس فرق کو جانیں تو اس عمل کے وقت ان کے اندر وہ غیر معمولی جوش و خروش نہ پیدا ہو جس کے نتیجے میں مذکورہ قسم کا واقعہ پیش آتا ہے۔

میں نے ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حدیث میں بعد کے زمانے کے بارے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page