Al-Risala · June 2006 · page 4

مہاراشٹر کا سفر

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۴

میں آیا ہے کہ: لم يبق من الاسلام الا اسمه ۔ یعنی امت مسلمہ پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب کہ اس کے اندر اسلام کا صرف نام باقی رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے۔ آج یہ حال ہے کہ ہر جگہ اسلام کا نام استعمال ہو رہا ہے۔ ہر جگہ اسلام کے نام پر دھوم ہو رہی ہے لیکن حقیقی اسپرٹ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کہیں بھی اسپرٹ والا اسلام موجود نہیں۔ یہ معاملہ اتنا زیادہ بڑھ رہا ہے کہ اب لوگ بے روح فارم ہی کو اسلام سمجھنے لگے ہیں۔

۲۴ جنوری کی سہ پہر کو گھر سے ائیر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ اس وقت دہلی میں ابھی کافی سردی تھی۔ محکمہ موسمیات کی اطلاع کے مطابق، دہلی میں اس سال جو سردی پڑی وہ پچھلے ستر سال میں سب سے زیادہ تھی۔ چنانچہ دہلی میں رات کا درجہ حرارت زیرو پوائنٹ تک پہنچ گیا۔ سردی کا موسم انسان کے لئے بے حد سخت ہے چنانچہ سینکڑوں لوگ اس موسم میں ٹھٹھُر کر مر گئے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے قومِ عاد کے انکار پر اس کو سخت عذاب میں ہلاک کر دیا۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: إنا أرسلنا عليهم ريحاً صرصراً في يوم نحس مستمر (القمر: ۱۹۔ ۱۸) دوسری جگہ ایّام نحسَات (حم السجدہ: ۱۶) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس آیت کا مطلب عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ منحوس دنوں میں انھیں عذاب دیا گیا۔ مگر صحیح یہ ہے کہ انھیں سخت سردی کے موسم میں عذاب دیا گیا۔ ان کے علاقے میں سردی بہت زیادہ بڑھ گئی۔ اس میں گھر کر وہ لوگ ہلاک ہو گئے۔ یومِ نحس کا یہ مفہوم لسان العرب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ (جلد ۶، صفحہ ۲۷۲) روانگی کے دن میری ملاقات مولا نا محمد ذکوان ندوی سے ہوئی۔ انھوں نے اپنے ایک ساتھی کا خط دکھایا۔ یہ خط راقم الحروف کے بارے میں تھا۔ اس خط کا پورا مضمون یہاں نقل کیا جاتا ہے: ’بندے کو آپ کے توسط سے حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ یہ موقع بندے کے لئے ایک انقلابی موقع ثابت ہوا کیوں کہ میری سوچ یہ ہے کہ اگر خدا سے ملنا ہے تو علماء کی صحبت اختیار کی جائے۔ لہٰذا میں عالیجناب سے ملاقات کر کے بہت خوش ہوا اور میری خوشیوں میں مزید اضافہ جب ہوا کہ جب میں نے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page