Al-Risala · June 2006 · page 5

مہاراشٹر کا سفر

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۵

حضرت والا کی عطا کردہ گراں قدر کتاب ”رازِ حیات“ کا مطالعہ کیا۔ اس کتاب نے جیسا کہ اپنے نام ہی سے ظاہر ہے میرے قلب کو منور و مجلیٰ کر دیا۔ کیوں کہ میں ابھی تک جس دائرے میں رہ کر زندگی گزار رہا تھا اس میں مجھ کو صرف اور صرف نا امیدیاں ہی نا امیدیاں نظر آ رہی تھیں، بلندیوں کی طرف توجہ ہی نہ ہو پاتی تھی جس سے آئندہ زندگی تاریک نظر آنے لگی تھی لیکن ”رازِ حیات“ کو پڑھ کر میں کچھ اس طرح متاثر ہو رہا ہوں کہ اب مستقبل مجھے آفتاب اور ماہتاب کی طرح روشن نظر آتا ہے۔ اب میری یہ خواہش ہے کہ میری نسبت حضرت والا سے مستقل طور پر جڑ جائے اس کے لیے حضرت والا کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ (۱۵ جنوری ۲۰۰۶، حافظ شمس الحق، ایم۔ اے، گونڈہ)

دار العلوم دیوبند (وقف) کے تحت، ۲۲، ۲۵، ۲۶ مئی ۲۰۰۶ کو قاری محمد طیب صاحب کے اوپر ایک عالمی سیمینار ہونے والا ہے۔ اس کی ایک پیشگی رپورٹ نئی دہلی کے روز نامہ راشٹریہ سہارا ۲۳ جنوری ۲۰۰۶ میں نظر سے گزری۔ دار العلوم کے نائب مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے دیو بند میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ— دار العلوم تحریک امن و سلامتی، انسان دوستی اور عدم تشدد کے فلسفے کی پیام بر ہے۔ (صفحہ: ۴)

یہ ایک خلاف واقعہ بات ہے۔ دار العلوم دیو بند کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ادارہ انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کی تحریک کے ضمن میں قائم ہوا۔ بوقت قیام، اس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے لیے مجاہد تیار کیے جائیں۔ دیو بندی علماء نے اس زمانے میں فتویٰ دیا تھا کہ ہندوستان دار الحرب ہو چکا ہے، اور انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ اس جلو میں دار العلوم دیو بند قائم ہوا۔ چنانچہ اس کے بڑے بڑے علماء مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا محمود الحسن دیو بندی، مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ با قاعدہ طور پر انگریز مخالف جہاد میں شریک رہے۔ یہ حقیقت سوانح قاسمی (مولانا مناظر احسن گیلانی) اور علماء ہند کا شاندار ماضی (مولانا محمد میاں) میں دیکھی جاسکتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page