آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴
کیا کرتا ہوں، بے جا بحث ومباحثہ اور طعن وتشنیع میرا مزاج نہیں۔ اس طرح میں نے کچھ وقت تبلیغی جماعت کے ساتھ لگا کر دیکھنا چاہا کہ یہ جماعت کیا چاہتی ہے، ان کے کیا عزائم ہیں، ان میں اصولوں کی کتنی پابندی ہے۔ الغرض یہاں آکر میرا مجھے مقصود حاصل ہوا۔ مطالعے کا شوق بہت ہے۔ اسی طرح ہر قسم کا لٹریچر، کتابیں وغیرہ پڑھتا ہوں۔ پھر ایک روز ایک کتابوں کی دکان پر آپ کی کتاب ’’صراط مستقیم‘‘ نظر سے گزری تو فوراً خرید لی۔ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا تھا کہ شاید میں انھیں باتوں کی تلاش میں تھا۔ آپ کی اور کتابیں بھی مطالعہ کی ہیں۔ آپ کی تحریروں میں غزوہ بدر کی مدد و نصرت ظاہر ہوتی نظر آتی ہے۔ اور پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے انسان اپنی فطرت سے باتیں کر رہا ہو۔ محترم! میری باتوں کا ضرور جواب دیں۔ (محمد اسحاق بلوچ، پاکستان)
جواب
آپ کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا اُس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی جتنی بھی تحریکیں ہیں وہ سب ردِ عمل کی تحریکیں ہیں۔ یعنی کسی مخصوص صورت حال کا ردِ عمل۔ مثلاً ایک جماعت کے لوگ کسی مقام پر دیکھیں کہ وہاں کے لوگوں کو کلمہ بھی یاد نہیں اور اس سے متاثر ہو کر کلمہ اور نماز کی تحریک چلا دیں تو ایسی تحریک صرف اُن لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرے گی جو خود بھی اسی قسم کے مسلمانوں کے بارے میں سوچتے رہے ہوں۔ ایسی کسی تحریک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو کوئی دلچسپی نظر نہیں آئے گی۔ اسی طرح کچھ لوگ دیکھیں کہ مسجدوں میں لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر وہ مسائل نماز سے واقف نہیں اور پھر اس پر وہ مسائل عبادت میں اصلاح کی تحریک چلا دیں تو ایسی تحریک صرف اُن لوگوں کو اپیل کرے گی جو خود بھی فقہی مسائل میں مسلمانوں کی بے شعوری کا احساس اپنے دل میں لیے ہوئے ہوں۔ اس کے بجائے وہ لوگ جو جدید الحادی افکار کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہوں اُنھیں اصلاح مسائل کی تحریک سے کوئی دل چسپی نہیں ہوگی۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ دیکھیں کہ کسی مسلم ملک میں وہاں کے مسلم حکمران شرعی قانون کا نفاذ نہیں کر رہے ہیں اور وہ اس معاملے کو لے کر ان مسلم حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ شروع کر دیں تو ایسی کوئی تحریک صرف اُن لوگوں کے لیے پر کشش ثابت
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues