Al-Risala · June 2006 · page 6

The Case for Doing One Thing at a Time.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۶

غیر متشددانہ پالیسی بلاشبہ بہت اچھی چیز ہے۔ مگر مذکورہ بیان تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ اس قسم کا بیان ایک غلط ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ یعنی ماضی کی غلطی کا اعتراف نہ کرتے ہوئے حال کی پسندیدہ بولی بولنا۔ مولانا موصوف کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ صاف طور پر یہ اعلان کریں کہ ماضی کے علماء کا یہ اقدام غلط تھا کہ انہوں نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا، اور انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کا فتوٰی دیا۔ اس اعلان کے بعد وہ کہتے کہ اب ہم اس غلطی کی تصحیح کرتے ہیں، اور از سر نو صحیح پالیسی اختیار کرتے ہیں۔

غلطی کا اعتراف کیے بغیر اپنے موقف کو بدلنا، ایک سنگین جرم ہے۔ اسی سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ لوگ صحیح انداز میں سوچنے کے قابل نہیں بنتے۔ صحتِ فکر کی لازمی شرط ہے۔ پچھلی غلطی کا اعتراف۔ غلطی کا اعتراف کیے بغیر خاموشی سے اپنا موقف بدل لینا، یہ موجودہ زمانے میں عام ہو چکا ہے۔ مذہبی لوگ اور سیکولر لوگ دونوں ہی اس روش میں مبتلا ہیں۔ ایسا کر کے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی پوزیشن کو محفوظ کر رہے ہیں۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ اپنی اس روش سے اپنے آپ کو ایک بہت بڑے انعام سے محروم کر رہے ہیں، اور وہ ہے حقیقت واقعہ کا اعتراف، اور ذہنی ارتقاء۔ دہلی ایئر پورٹ پر ٹائم میگزین کا شمارہ ۲۳ جنوری ۲۰۰۶ دیکھنے کو ملا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان یہ تھا:

The Case for Doing One Thing at a Time.

یہ ایک امریکی خاتون ہیں جن کا نام ہے سوزے آرمین(Suze Orman) یہ خاتون امریکا کی نمبر ایک فنانشل ایڈوائزر سمجھی جاتی ہیں ۔ ان کو یہ غیر معمولی مقام کیسے ملا۔ اس کا راز مضمون میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ ایک وقت میں صرف ایک کام کرتی ہیں ۔ وہ شدت سے اپنے اس اصول پر کار بند ہیں:

Financial advisor, Suze Orman refuses to be interrupted while on task. وہ تنہا ہیں، انھوں نے شادی نہیں کی۔ حتی کہ ان کا کوئی سروینٹ یا مددگار بھی نہیں۔ وہ کسی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page