The Case for Doing One Thing at a Time.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۷
بھی قیمت پر (distraction) کو برداشت نہیں کرتے۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران اپنے بارے میں کہا:
When I am writing, I don't answer phones. I don't care what else is going on. (p. 37)
دہلی ایئرپورٹ پر ایک صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود تھے۔ ان کا نام نیرج جین تھا۔ وہ ایک کمپیوٹر کمپنی میں چیف ایگزیکٹو آفیسر تھے۔ انھوں نے میرے ساتھی سے میرے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک اسپرپچول گرو ہیں۔ انھوں نے دلچسپی ظاہر کی تو انھیں انگریزی کے چند پمفلٹ دئے گئے جو CPS کے تحت چھاپے گئے ہیں۔ ان کتابچوں کے نام یہ ہیں: The Reality of Man Man and God Destination of Man موجودہ زمانے میں دعوت ورک کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں سفر بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اب لوگوں کے درمیان بہت زیادہ انٹریکشن ہونے لگا۔ یہ انٹریکشن دعوت ورک کا بہت اچھا ذریعہ ہے۔ اگر لوگ اپنے بیگ میں دعوتی موضوعات پر کتابچے رکھ لیں اور ملاقات کے وقت لوگوں کو دیتے رہیں تو موثر دعوتی کام ہو سکتا ہے۔ ایئرپورٹ کے اندر پہنچا تو ونڈو پر بیٹھی ہوئی خاتون نے بتایا کہ جہاز ٹھیک وقت پر دہلی سے روانہ ہوگا۔ مگر عملاً ایک گھنٹے سے زیادہ تاخیر کے ساتھ جہاز کی روانگی ہوئی۔ سنگاپور کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ سنگاپور میں ٹائم کی سخت پابندی کی جاتی ہے۔ وہاں جہاز ٹھیک وقت پر روانہ ہوتا ہے اور ٹھیک وقت پر اترتا ہے۔ انڈیا میں لوگ ٹائم کا خش نہیں ۔ مزید یہ کہ انڈیا کے ایئرپورٹ پر ابھی تک ماڈرن سہولتیں موجود نہیں، حتی کہ دہلی ایئرپورٹ میں بھی نہیں۔ ایئرپورٹ کو جب تک عالمی معیار کے مطابق نہ بنایا جائے اس قسم کے مسائل جاری رہیں گے۔
جہاز کے اندر داخل ہوا تو وہاں مطالعے کے لیے اخبارات موجود تھے۔ ۲۴ جنوری ۲۰۰۶ کے ٹائمس آف انڈیا میں کچھ سبق آموز خبریں تھیں ایک خبر یہ تھی کہ فلم اسٹار امیتابھ بچن
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues