Al-Risala · June 2006 · page 8

The Case for Doing One Thing at a Time.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۸

بہت بڑی رقم ایک مندر کو نذرانے میں دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں خبر کے الفاظ یہ تھے: Bachchan refuses to comment on the news report that he is donating jewellery worth Rs. 10 crore to the Trupati Temple. I don't like my religious activities to be made public. اس خبر پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ ہر انسان کے اندر یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ کوئی ہے جو مجھ سے بڑا ہے۔ اپنے لیے ایک بڑے کو پانے کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ یہ جذبہ حقیقتاً خدائے برتر کے لیے ہے۔ لیکن خدا کو نہ پانے کی صورت میں وہ اپنے ان احساسات کو کسی غیر خدا کے لیے وقف کر دیتا ہے۔

ہر ایئر پورٹ پر سیکورٹی چیک کا ایک مسئلہ ہوتا ہے، وہ دہلی ایر پورٹ پر بھی پیش آیا۔ ایک اخبار میں یہ خبر تھی کہ سیکورٹی چیک ہر مسافر کے لیے ضروری ہے۔ ایئر پورٹ کے کئی مرحلے میں ہر مسافر کی پوری چکلنگ کی جاتی ہے۔ مگر ملکی قانون کے مطابق، کچھ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ شہری پرواز کی وزارت کے تحت، سیکورٹی کٹیگری کمیٹی (Security Category Committee) ہے۔ اس نے کچھ شخصیتوں کو سیکورٹی چیک سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ پریسیڈنٹ، پرائم منسٹر، سابق پرائم منسٹر اور سابق پریسیڈنٹ، چیف جسٹس آف انڈیا، اور دلائی لاما۔ یہ طریقہ صرف انڈیا میں ہے۔ باہر کے ترقی یافتہ ملکوں میں اس قسم کے امتیازی طریقے موجود نہیں:

Throughout the world the airport security checks are being tightened. So much so that even former US vice presedent Al Gore had to take off his shoes for a security check, post 9/11. جیٹ ایرویز کا فلائٹ میگزین جیٹ ونگس (Jetwings) کا شمارہ جنوری ۲۰۰۶ جہاز کے اندر برائے مطالعہ موجود تھا۔ ۲۸۸ صفحے کا یہ میگزین آرٹ پیپر پر چھپا ہوا تھا۔ ہر صفحے پر خوب صورت رنگین تصویریں تھیں۔ لیکن پورے میگزین میں کوئی ایسی بامعنی بات نہیں ملی جو سفر نامے میں قابلِ ذکر ہو۔ اکثر فلائٹ میگزین ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر صرف دو چیزیں شائع کی جاتی ہیں—اشتہار یا تفریحی مضامین۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page