Al-Risala · June 2006 · page 9

او خویشتن گم است کرار ہبری گند

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۹

تاہم یہ کوئی استثنائی بات نہیں۔ اکثر لوگ جو جرائد کو خریدتے اور پڑھتے ہیں۔ ان سے میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے اس میں کوئی بامعنی بات پڑھی ہو تو بتائیے ۔ لیکن میرے تجربے کے مطابق، ننانوے فیصد لوگ کوئی نصیحت کی بات یا کوئی معنی خیز بات بتا نہیں پاتے۔ تقریبا ہر زبان کا معاملہ یہی ہے۔ ایک صاحب جو ایک اردو ماہنامہ کے خریدار ہیں اور دس سال سے اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اس پوری مدت میں کوئی سبق کی بات پڑھی ہو تو وہ بتائیے۔ وہ ایک بات بھی نہ بتا سکے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ صرف رسائل اور جرائد کی اپنی حالت کا بیان نہیں ہے بلکہ وہ ان لکھنے والے دانش وروں کی فکری حالت کا بیان ہے جو ان کو مرتب کرتے ہیں اور انھیں شائع کرتے ہیں۔ چنانچہ ان حضرات کی اکثریت کا معاملہ ٹھیک وہی ہے جو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

او خویشتن گم است کرار ہبری گند

سفر میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایک ماہ نامہ کے ایڈیٹر تھے۔ ان سے گفتگو شروع ہوئی تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کے پاس کہنے کے لیے کوئی مثبت بات نہیں ہے۔ ان کے پاس یا تو اپنے مفروضہ اکابر کی تعریفیں تھیں یا مفروضہ دشمنوں کی شکایتیں ۔ اس قسم کی سوچ میرے نزدیک منفی سوچ ہے، اور منفی سوچ کا آدمی، کوئی بامعنی نصیحت کی بات نہیں سوچ پاتا۔ بامعنی نصیحت ہمیشہ مثبت ذہن سے نکلتی ہے۔ منفی ذہن اور مثبت پیغام دونوں ایک انسان کے اندر جمع نہیں ہو سکتے۔ ایڈیٹر صاحب سے گفتگو کے دوران محسوس ہوا کہ وہ مثبت کلام اور منفی کلام کا فرق نہیں سمجھتے۔ مثلاً وہ ادبی انداز کی تعریفی تحریروں کو مثبت تحریر سمجھتے تھے، اور تجریاتی تنقید کو منفی تحریر کا درجہ دیتے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ خیال درست نہیں۔ اصل چیز دیکھنے کی یہ ہے کہ کسی مضمون کو پڑھ کر قاری کو اپنے لیے کوئی تعمیری پیغام ملا یا نہیں۔ مثبت انداز در اصل تعمیری انداز ہے، اور منفی انداز وہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں تخریبی انداز کہا جا سکتا ہے۔

مثلاً اگر آپ اپنی ایک محبوب شخصیت کے بارے میں لکھیں کہ وہ ایک تاریخ ساز شخصیت تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page