او خویشتن گم است کرار ہبری گند
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۱۰
ان کی تحریروں نے ایک نیا عہد پیدا کیا۔ انھوں نے وقت کے ظالموں کے خلاف قلمی جہاد کیا۔ وہ اپنے زمانے کے تمام اہل قلم میں ایوریسٹ کی چوٹی پر نظر آتے تھے، وغیرہ۔ اس طرح کے الفاظ پڑھ کر کسی قاری کو اپنی زندگی کے لیے کوئی تعمیری پیغام نہیں ملتا۔ اس لیے میں اس کو منفی ادب میں شمار کروں گا۔ اس کے برعکس، اگر ایک شخص تجزیاتی تنقید کا طریقہ اختیار کرے۔ مثلاً وہ اقبال کے اس شعر کا حوالہ دے:
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی جو شاخ نازک پے آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا وہ لکھے کہ اس شعر میں مغربی تہذیب کو خنجر کہا گیا ہے۔ حالاں کہ مغربی تہذیب علومِ فطرت کی تحقیق کا پیغام دیتی ہے۔ یہ بظاہر ایک تنقید ہے لیکن وہ مثبت نتیجے کی حامل ہے۔ کیوں کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قاری، مغربی تہذیب سے نفرت کو چھوڑے گا اور اس سے مثبت فائدہ اٹھا کر علومِ فطرت کو حاصل کرے گا جو موجودہ زمانے میں ترقی کے لیے ضروری ہے۔
تنقید کے معاملے میں رائے قائم کرنے کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے۔ جو تنقید قاری کو صرف نفرت اور غصّے کا تحفہ دے وہ تخریبی تنقید ہے، اس کے برعکس، جو تنقید قاری کو اصلاحِ حال کا سبق دے وہ تعمیری تنقید ہے۔ اور وہ مطلوب تحریر کا درجہ رکھتی ہے۔
دہلی سے ناگپور کا سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوا۔ ناگپور ایرپورٹ پر مسٹر عبدالسلام اکبانی، جسٹس ایم۔ ایم۔ قاضی اور مسٹر زبیر احمد اکبانی موجود تھے۔ ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہو کر مسٹر عبدالسلام اکبانی کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ یہاں رات گزار کر صبح سویرے مجھے بذریعہ کار وردھا جانا تھا۔ رات کوناگپور میں قیام رہا۔ ۲۵ جنوری ۲۰۰۶ کی صبح کو فجر کی نماز ناگپور میں پڑھی۔ اس کے بعد بذریعہ کارناگپور سے وردھا کے لیے روانگی ہوئی۔ صبح کے سہانے وقت میں سفر کرنا گویا فطرت کی دنیا میں سفر کرنا ہوتا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے کا یہ سفر اسی قسم کا ایک سفر تھا۔ راستے میں سڑک کے دونوں طرف
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues