Qur'an has to be re-revealed today.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱
فطرت کی دنیا تھی جو صبح کی روشنی میں چمک اٹھی تھی۔ کھلا آسمان، کھلی روشنی، درختوں اور کھیتوں کے مناظر، چڑیوں کی آوازیں، اس طرح کے ماحول میں یہ سفر طے ہوتا رہا۔ سڑک زیادہ اچھی نہ تھی تاہم فطرت کا مشاہدہ اس کمی کے احساس پر غالب آ گیا۔
فطرت اور انسانی تمدن میں فرق پر غور کرتے ہوئے میں نے کہا کہ فطرت کا خالق کتنا عظیم ہے جس نے ایک عظیم کائنات اس طرح بنائی کہ اس کو دوبارہ اس پر نظرثانی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اس کے مقابلے میں انسان ایک متمدن دنیا کی تعمیر کرتا ہے اور اس میں بار بار نظرثانی کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ یہ فرق بلاشبہ قادر مطلق کے وجود کا ایک نا قابل انکار ثبوت ہے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد واردھا پہنچا۔ یہاں گوپوری کے علاقے میں ایک بڑے رقبے میں ایک ادارہ قائم ہے جس کا نام یہ ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز۔ ادارے کے قیام کے لیے یہ زمین جمنا لال بجاج نے دی تھی جو کہ گاندھی سے بہت متاثر تھے۔ یہاں صبح کی چائے کے ساتھ مقامی منتظمین سے کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں۔ اس کے بعد مجھ کو ادارے کے ہال میں لے جایا گیا جہاں سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا۔
چائے کی اس نشست کے دوران ایک صاحب نے اسلام میں نظر ثانی (revision) کی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ اسلام ساتویں صدی عیسوی میں آیا تھا۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اور اسلام کو آج کے لحاظ سے ریلیوینٹ (relevant) بنانے کے لیے اسلام میں نظرثانی اور ریفارم کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ یہ مسئلہ موجودہ زمانے میں بار بار اٹھایا گیا ہے۔ اپنے مطالعے اور غور وفکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ معاملہ اسلام میں ریفارم یا نظر ثانی کا نہیں ہے بلکہ بعد کے زمانے میں اسلام پر پڑے ہوئے غبار کو ہٹانے کا مسئلہ ہے۔ ایک ماڈرن رائٹر نے کہا ہے کہ قرآن کو پھر سے نازل ہونا چاہیے:
Qur'an has to be re-revealed today.
میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ قرآن آج بھی پوری طرح ریلیوینٹ (relevant) ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues