آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۵
ہوگی جن کا ذہن خود بھی روزانہ اخبارات پڑھ پڑھ کر اس قسم کے سیاسی مسائل میں الجھا ہوا ہو۔ اس کے برعکس جو لوگ فطرت کی سطح پر جیتے ہوں، جواپنے فطری سوالات کا جواب پانا چاہتے ہوں اُنھیں مذکورہ قسم کی سیاسی تحریک کی طرف کوئی رغبت نہ ہوگی۔
الرساله مشن مذکورہ قسم کی تحریکوں سے بالکل مختلف ہے۔ الرساله مشن کسی قسم کے ردِعمل کے طور پر نہیں اٹھا۔ وہ فطرت کے ابدی تقاضوں کی بنیاد پر اٹھاہے۔ اس لیے الرساله مشن میں صرف اُن لوگوں کو دل چسپی ہوگی جو اسلام کو اُس کی ابدیت کے تناظر میں سمجھنا چاہتے ہوں۔ جو اُس اسلام کو جاننا چاہتے ہوں جو اُن کی فطرت میں چھپے ہوئے ابدی احساسات کو مطمئن کر سکے۔ اس لیے یہی ہوگا کہ ہر تحریک میں کچھ مخصوص لوگ ہی آئیں گے۔ تمام لوگ نہ الرساله مشن میں شامل ہو سکتے ہیں اور نہ دوسری مسلم تحریکوں میں۔
الرساله کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں، اُن کی مخالفت کا سبب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ الرساله میں مسلمانوں کے مفروضہ اکابر پر تنقید کیوں ہوتی ہے۔ اس مخالفت کا سبب کسی شرعی تعلیم پر مبنی نہیں ہے۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی بڑی تعداد ’’دین اکابر‘‘ پر جی رہی ہے۔ انھوں نے دین کو اپنے مفروضہ اکابر کے واسطے سے پایا ہے۔ اُن کا یہی خود ساختہ ذہن ان کی مخالفت کا اصل سبب ہے۔ مگر امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کا ذہن اکابر اور غیر اکابر کی تقسیم سے آزاد ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دین کو اس کی ابدی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اکابر اور غیر اکابر سے اوپر اٹھ کر یہ جاننا چاہتے ہوں کہ خدا اور رسول کی سطح پر کیا چیز حق ہے اور کیا چیز باطل ہے۔ ایسے لوگوں کو صرف الرساله میں تسکین ملے گی۔ الرساله کے سوا کہیں اور اُنھیں تسکین ملنے والی نہیں۔ سوال ’’فقہی مقالات‘‘ کے نام سے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں ایک مقالہ ’’ جہاد دفاعی یا اقدامی‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مقالے کو میں نے غائر نگاہ کے ساتھ پڑھا بھی ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد جو نتیجہ سامنے آیا وہ یہ کہ اسلام میں جہاد اقدامی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues