Al-Risala · June 2006 · page 17

Why suicide bombing is haram in Islam.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۱۷

اس قسم کے جلسے آج کل ساری دنیا میں ہو رہے ہیں۔ مجھے بار بار ان جلسوں میں اسلام کی نمائندگی کے لیے بلایا جاتا ہے، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی۔ میں ہر جگہ کسی شرط یا تحفظ ذہنی کے بغیر اسلام کی تعلیمات کو پیش کرتا ہوں۔ میرا تجربہ ہے کہ لوگ جب اسلام کی فطری تعلیمات کو سنتے ہیں تو وہ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

ہم خود بھی اپنے انتظام کے تحت ، اس قسم کے جلسے منعقد کرتے ہیں۔ اس کی ایک باقاعدہ اور منظم صورت یہ ہے کہ الرساله مشن یا CPS کی طرف سے نئی دہلی میں ہفتے وار اجتماع ہر اتوار کو، اسپیچول کلاس کے نام سے کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ جنوری ۲۰۰۱ سے مسلسل طور پر جاری ہے۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف گاندھیئن اسٹڈیز (واردھا) کا موجودہ سفر بھی اسی قسم کا ایک سفر تھا۔ اس سے پہلے بھی میں یہاں دو بار آ چکا ہوں۔ اب یہ تیسری بار یہاں کے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ یہاں جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں وہ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان میں بتانوے فیصد ہندو حضرات تھے۔ یہ سب گاندھیائی خیالات سے متاثر تھے۔ ان میں کوئی ایسا نہ تھا جو غیر ضروری بحثیں کرے یا معاندانہ قسم کے سوالات پیش کرے ۔ یہاں کے سبھی لوگ سنجیدہ اور علمی مزاج رکھنے والے نظر آئے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے تحت، ایک تعلیمی ادارہ چلایا جارہا ہے۔ یہاں ایک اچھی لائبریری بھی قائم ہے۔ یہاں کا ماحول امن اور روحانیت کا ماحول نظر آتا ہے۔ یہاں جن لوگوں سے بھی باتیں ہوئیں انھوں نے بحث وتکرار کا انداز اختیار نہیں کیا بلکہ سنجیدہ انداز میں زیر بحث بات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہاں اس سلسلے میں چند گفتگوئمیں نقل کی جاتی ہیں :

ایک صاحب نے کہا کہ آج کل مسلمان جگہ جگہ خود کش بمباری (suicide bombing) کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو رہا ہے۔ آپ خود کش بمباری کے خلاف ایک کتاب لکھیے، جس کا ٹائٹل یہ ہو :

Why suicide bombing is haram in Islam.

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page