Why hate bombing is super haram in Islam.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۱۸
یعنی خود کش بمباری اسلام میں کیوں حرام ہے۔ میں نے کہا کہ اس سے پہلے ایک اور کتاب لکھنے کی ضرورت ہے جس کا نام یہ ہو کہ نفرت بم کیوں اسلام میں سپر حرام ہے:
Why hate bombing is super haram in Islam.
میں نے کہا کہ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خود کش بمباری کے ذمے دار صرف چند مسلم نوجوان ہیں۔ مگر یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خودکش بمباری کے ذمے دار موجودہ زمانے کے تقریباً سارے ہی مسلمان ہیں۔
اس لیے کہ آج کی دنیا میں ہر جگہ یہ ہو رہا ہے کہ مسلمان غیر مسلم قوموں کے خلاف ظلم کی داستانیں بیان کرنے میں مشغول ہیں، وہ ان قوموں کو اسلام اور مسلمان کا دشمن بتا رہے ہیں۔ مسلمانوں کے اخبار، ان کے اجتماعات، ان کی مجلسیں، ان کی کتابیں اور رسالے، حتیٰ کہ ان کی مسجد اور مدرسے سے ہر جگہ یہی بتایا جا رہا ہے کہ دوسری قومیں ان کی دشمن ہو گئی ہیں۔ ہر ایک ان کے خلاف زیادتی کرنے میں مشغول ہے۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے صرف ایک ہی کام میں مشغول ہیں، وہ ہے غیر مسلم قوموں کی منفی تصویر پیش کرنا، ان کے خلاف شعوری یا غیر شعوری طور پر نفرتی مہم چلانا۔ عرب سے لے کر عجم تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک ہر جگہ یہی نفرتی مہم (hate campaign) جاری ہے۔
مسلم ملت کی یہی وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے مسلم نوجوان دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور غصے میں بھر گیے۔ اسی نفرت اور غصے کا اظہار خود کش بمباری کی صورت میں ہوتا ہے۔ اسی سے اس بات کی توجیہہ ہو جاتی ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ یہ خود کش بمباری اکثر پڑھے لکھے نوجوان کرتے ہیں نہ کہ جاہل اور غریب مسلمان۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ نفرتی مہم پریس اور میڈیا کی سطح پر چلائی جاتی ہے۔ اور پریس اور میڈیا تک انھیں لوگوں کی پہنچ ہوتی ہے جن کو تعلیم یافتہ مسلمان کہا جاتا ہے۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے شیلے کا ذکر کیا اور کہا کہ پی۔ بی۔ شیلے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues