Why hate bombing is super haram in Islam.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۱۹
(Percy Bysshe Shelley) ایک برٹش شاعر تھا۔ وہ ۱۷۹۲ء میں پیدا ہوا، اور ۱۸۲۲ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا قول ہے کہ— ہمارے سب سے زیادہ شیریں نغمے وہ ہیں جو سب سے زیادہ پر درد نغمے ہیں:
Our sweetest songs are those that tell our saddest thoughts. یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو دردِ مند زندگی ملتی ہے اُنھیں کی زبان سے پر سوز کلام جاری ہوتا ہے۔ پر راحت اور پر مسرت زندگی گذرانے والے کبھی پر سوز کلام کی تخلیق نہیں کر سکتے۔ اِسی حقیقت کو فانی بدایونی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے:
زمانہ بر سرِ آزار تھا مگر فانی تڑپ کے ہم نے بھی تڑپا دیا زمانے کو جب کسی انسان کو خدا پر دردِ زندگی دے تو یہ خدا کی طرف سے اس کے لیے ایک خاموش پیغام ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا اُس انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگانا چاہتا ہے۔ خدا اس انسان کو انتہائی سنجیدہ انسان بنانا چاہتا ہے۔ یہ خدا کی منصوبہ بندی کا ایک حصہ ہے۔ ایسے انسان کو چاہیے کہ وہ خدا کے فیصلے پر راضی ہو اور انسانیت کی تعمیر کی راہ میں اپنا وہ حصہ ادا کرے جو اس سے مطلوب ہے۔ یعنی اپنے سنجیدہ کلام اور پر درد پیغام کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی۔ ایسا انسان گویا کہ خدا کی طرف سے ایک چنا ہوا انسان (chosen person) ہوتا ہے۔ اس کو خدا کی خصوصی رحمت کا ایک حصہ ملا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو چاہیے کہ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بنے۔ وہ اپنے آپ کو احساسِ محرومی کے منفی جذبے سے بچائے۔ وہ مکمل طور پر مثبت نفسیات والا ایک انسان بنے۔ تاکہ وہ خدا کے بندوں کے درمیان وہ اصلاحی رول ادا کر سکے جو خدا نے اس کے لیے مقدر کیا ہے۔
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک حدیث میں ہے کہ انسان کا دل خدا کی دو انگلیوں کے درمیان ہے (القلوب بین اصبعی الرحمن) یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل پتھر کی طرح کوئی جامد چیز نہیں۔ انسان کا دل نہایت نرم ہے، اور وہ نہایت
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues