Al-Risala · June 2006 · page 20

Why hate bombing is super haram in Islam.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۲۰

آسانی سے بدل سکتا ہے۔ بدلنے کا یہ معاملہ خدا کے قائم کردہ فطری قانون کے تحت ہوتا ہے۔ وہ فطری قانون یہ ہے کہ نزاعی معاملات میں اگر آپ دوسروں کو ذمے دار ثابت کرنے کی کوشش کریں تو اس سے فریق ثانی کے اندر ضد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو برابر بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ ایسا کریں کہ نزاع کے وقت یک طرفہ طور پر خود اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں تو فریق ثانی کا دل نرم پڑ جائے گا اور نہایت آسانی کے ساتھ نزاع کا ماحول ختم ہو جائے گا۔ اس سفر کے دوران ایک انوکھا تجربہ ہوا۔ میں رات کو سو کر صبح میں اٹھا تو سورج کی ابتدائی کرنیں فضا کو منور کرتی ہوئی نظر آئیں ۔ میری زبان پر یہ الفاظ آئے ہر روز جب رات کے بعد سنہری صبح طلوع ہوتی ہے تو وہ انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اسی طرح ایک اور صبح طلوع ہونے والی ہے جو زیادہ روشن اور زیادہ مبارک ہوگی۔ یہ صبح ابدی طور پر ہر قسم کے اندھیروں کو ختم کر دے گی، یہ صبح ابدی طور پر انسان کو پر مسرت زندگی کا تحفہ عطا کرے گی ۔ اس کے بعد انسان ابدی طور پر غیر معیاری دنیا سے نکل کر معیاری دنیا میں پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد ایک ایسا دورِ حیات شروع ہو گا جس میں ہر چیز مکمل ہوگی۔

قرآن میں اس دنیا کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں نہ خوف ہوگا اور نہ حزن (لا خوف عليهم ولا هم يحزنون) حدیث میں میں آیا ہے کہ جنت میں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف (لا صخب فيها ولا نصب ) ان چار الفاظ میں جنت کی پوری تصویر موجود ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ جنت ہر قسم کی محدودیت سے خالی ہوگی۔ وہاں کسی بھی قسم کے ناموافق حالات موجود نہ ہوں گے۔ وہاں خوشی اور راحت اپنی اعلیٰ ترین صورت میں مہیا ہوگی۔ اس جنت کی قیمت صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی آخرت کی جنت کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کی جنت کی قربانی پر راضی ہو جائے ۔ کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اخباروں اور جلسوں میں اگرچہ ہندوستان کے مسلمانوں کی منفی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ مگر یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان نہایت تیزی کے ساتھ ہر میدان میں ترقی کر رہے ہیں۔ مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page