Al-Risala · June 2006 · page 21

Why hate bombing is super haram in Islam.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۲۱

1964 میں میں دہلی آیا۔ اُس وقت دہلی کے مسلمانوں کے پاس صرف چند کاریں تھیں۔ جمع اور عید کے دن مسجدوں کے سامنے کوئی کار دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اب جمع اور عید کے دن مسجدوں کے سامنے کاروں کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ دہلی میں آپ جدھر جایئے مسلمانوں کے پاس کار اور موبائل ٹیلی فون جیسی چیزیں کثرت سے نظر آئیں گی۔

انھوں نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کار ہونے کا نام ترقی ہے۔ میں نے کہا کہ موٹر کار اور موبائل ٹیلی فون کوئی سادہ چیز نہیں۔ یہ دراصل کمیونیکیشن اور حرکت (mobility) کا نام ہے۔ وہ کنیکٹ اور انٹریشن کو لامحدود حد تک بڑھاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ساری ترقیات اسی سے جڑی ہوئی ہیں۔ قدیم زمانے میں انسانی تعلقات بہت محدود ہوتے تھے، اس لیے ترقی کے امکانات بھی محدود ہوتے تھے۔ موجودہ زمانے میں مشینی ذرائع نے رفتار کو پہیہ اور الیکٹرانک لہریں عطا کر دی ہیں۔ اس کے نتیجے میں حرکت و عمل کے مواقع لامحدود حد تک بڑھ گئے ہیں۔

کار اور ٹیلی فون اِسی زمانی تبدیلی کی علامت ہے۔ جب ٹیلی فون پر کسی کال کی گھنٹی بجتی ہے یا جب کار کسی روڈ پر دوڑتی ہوئی نظر آتی ہے تو وہ خاموش زبان میں یہ اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ نیاز مانہ تیز رفتار ترقی کا زمانہ ہے۔ مسلمانوں نے شعوری طور پر تو نہیں لیکن غیر شعوری طور پر اس حقیقت کو دریافت کر لیا ہے۔ اس دریافت کی طرف ان کا سفر بھی شروع ہو چکا ہے۔ بہت جلد ایسا ہوگا کہ ہندوستان کے مسلمان پورے برصغیر ہند میں مثالی ترقی کا نمونہ بن جائیں گے۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں ہر آدمی کا سب سے بڑا کنسرسن اس کی اولا دب بن گئی ہے۔ انسان کو جو محبت خدا کے ساتھ ہونی چاہیے وہ محبت اس کو اپنی اولاد سے ہو گئی ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، اس کا سبب موجودہ زمانے میں مال اور دنیوی ترقی کا غیر معمولی اضافہ ہے۔

قدیم زرعی دور میں یہ مزاج صرف بادشاہوں کا ہوا کرتا تھا۔ قدیم زمانے میں صرف بادشاہ وہ شخص ہوتا تھا جس کے پاس سلطنت کی صورت میں ایک بڑی چیز ہوتی تھی۔ چنانچہ ہر بادشاہ کی یہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page