Why hate bombing is super haram in Islam.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۲۲
کوشش ہوتی تھی کہ اس کی سلطنت اس کے بعد اس کے بیٹے کو ملے۔ موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب کے نتیجے میں مال اور مادی ساز و سامان کی بھر مار ہو گئی۔ اب ہر آدمی کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مادی ترقی کرے۔
اس چیز نے موجودہ زمانے میں عمومی طور پر اولاد پرستی کا مزاج پیدا کیا۔ اب آدمی محنت کر کے پیسہ کماتا ہے، شان دار گھر بناتا ہے اور شان دار قسم کے مادی ساز و سامان اپنے گرد اکٹھا کرتا ہے، اس کے بعد جب وہ سوچتا ہے کہ جلد ہی میں مرجاؤں گا تو اس کو یہ خیال آنے لگتا ہے کہ یہ دولت جو میں نے کمائی ہے وہ میرے بعد کون لے گا۔ یہی مزاج آدمی کے اندر اولاد پرستی پیدا کرتا ہے۔ ہمارے یہاں ایک صاحب تھے ان کا نام عظیم الدین تھا۔ انھوں نے بزنس میں کافی پیسہ کمایا۔ لیکن ان کے یہاں اولاد نہ تھی۔ ان کی بوڑھی ماں اکثر یہ کہتی رہتی تھیں کہ ہائے! عظیم کی دولت کون لے گا۔ پہلے زمانے میں صرف بادشاہ کے اندر یہ مزاج ہو گا کہ ہائے! میری سلطنت کون لے گا، کیوں کہ قدیم زرعی زمانے میں کوئی بڑی چیز صرف بادشاہ کے پاس ہوتی تھی۔ اب ہر آدمی کے پاس کوئی بڑی مادی چیز ہے۔ کیوں کہ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ میرے بعد یہ چیز صرف میرے بیٹے کو ملے۔ اس چیز نے موجودہ زمانے میں اولاد پرستی کو عام بنا دیا ہے۔
ایک صاحب جو سوشلسٹ نظریات سے متاثر تھے، ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پوری تاریخ میں تمام مصلحین اور مفکرین ایک غلط تقسیم (dichotomy) میں مبتلا رہے ہیں۔ ہر ایک نے یہ کیا کہ سماج کو محروم اور غیر محروم (the haves and the have nots) طبقات میں بانٹ کر دیکھا۔ ہر ایک یہ کوشش کرتا رہا کہ وہ اس تقسیم کو ختم کر کے معاشی برابری کا سماج قائم کرے، اور جب ایسا نہیں ہوا تو انھوں نے اس کو خلاف عدل قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک سماجی بُرائی (social evil) ہے۔ اس تصور کو لے کر وہ خدا کے بارے میں شبہات میں مبتلا ہو گئے ۔ یہ سارا معاملہ غلط فکری کا نتیجہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں بظاہر جو تقسیم ہے وہ محروم اور غیر محروم (the haves and the haves-nots) کی نہیں ہے۔ زیادہ درست طور پر وہ تقسیم بالقوہ غیر محروم
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues