Al-Risala · June 2006 · page 23

Why hate bombing is super haram in Islam.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۲۳

اور بالفعل غیر محروم (potential haves and actual haves) کی ہے۔ یعنی کچھ لوگ آج بظاہر محروم نظر آتے ہیں۔ لیکن کل وہ غیر محروموں کی فہرست میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس کی مثالیں آپ ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں، یہاں تک کہ خود اپنے خاندان میں بھی۔ ملکی اعتبار سے اس کی ایک مثال ڈاکٹر عبدالکلام ہیں۔ وہ ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں وہ ایک محروم شخص کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن آج وہ ہندوستان کے صدر ہیں، اور دہلی کے راشٹرپتی بھون (قدیم وائس ریگل لاج) میں رہتے ہیں۔ ان کی حفاظت پر ہزاروں فوجی جوان مقرر ہیں۔ وہ اسپیشل ہوائی جہاز پر سفر کرتے ہیں، وغیرہ۔

ایک مجلس میں میں نے ایک سبق آموز واقعہ سنایا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ میں ایک کار پر سفر کر رہا تھا۔ اچانک بہت زور کی آوازی آئی اور ہماری گاڑی رک گئی۔ میں نے سمجھا کہ کسی نے بھاری پتھر ہماری گاڑی پر پھینک دیا ہے۔ اس وقت ہماری گاڑی ریڈ لائٹ پر رکی ہوئی تھی۔ قصہ یہ ہوا کہ ایک ہندو نو جوان اپنی موٹر سائیکل تیزی کے ساتھ دوڑاتا ہوا ہماری گاڑی سے ٹکرا گیا۔ اس کے بعد موٹر سائیکل بھی گر گئی اور وہ نو جوان بھی سڑک پر گر پڑا۔ ہمارا ڈرائیور نہایت غصے میں گاڑی سے اترا اور ہندو نوجوان کی طرف بڑھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کو مارے گا لیکن معاملہ بالکل مختلف ہوا۔ ہندو نو جوان اُس وقت سڑک پر گرا ہوا تھا اس نے ڈرائیور کو دیکھتے ہی اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے عاجزی کے انداز میں کہا: بھائی صاحب! معاف کر دیجئے میں بہت غریب آدمی ہوں۔ نوجوان کے اس کھلے اعتراف کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈرائیور کا دل بالکل نرم پڑ گیا۔ اب ڈرائیور کے ذہن میں آیا کہ وہ نو جوان کو مارنے کے بجائے جلد از جلد اس کو اسپتال پہنچائے۔ اس کے بعد ڈرائیور نے یہ کیا کہ اس نے ایک اور گاڑی روکی، اور اس پر ہم کو بٹھا کر آگے کے لیے روانہ کیا اور خود یہ کیا کہ زخمی نوجوان کو اپنی گاڑی پر بیٹھا کر اسپتال لے گیا اور اس کو فرسٹ ایڈ پہنچائی۔ اس واقعے میں بہت بڑا سبق ہے۔ مذکورہ نو جوان اگر ڈرائیور سے لڑ جاتا ، وہ اپنے کو بے قصور ظاہر کرکے ڈرائیور کو بُرا کہتا تو معاملہ مزید بڑھتا۔ اب ڈرائیور نو جوان کو فرسٹ ایڈ پہنچانے کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page