Al-Risala · June 2006 · page 24

Why hate bombing is super haram in Islam.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴

بجائے اس کو پولیس اسٹیشن لے جاتا۔ اس کے برعکس، جب نوجوان نے عاجزی کا اظہار کیا اور فوراً ہی اپنی غلطی مان لی تو ڈرائیور کے دل میں اس کے لیے ہمدردی آگئی۔ اب وہ یہ چاہنے لگا کہ نوجوان کو سزا دینے کے بجائے اس کو طبی مدد پہنچائی جائے۔

یہ واقعہ بظاہر ایک چھوٹا واقعہ ہے لیکن اس کے اندر بہت بڑا سبق ہے۔ وہ سبق یہ کہ فریق ثانی کا دل آپ کی مٹھی میں ہے۔ آپ چاہے اس کو بھڑکاکر اس کو اپنا دشمن بنا لیجئے یا ٹھنڈا طریقہ اختیار کر کے اس کو اپنا دوست بنا لیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص آپ کو بظاہر دشمن نظر آتا ہے وہ بالقوہ طور پر آپ کا دوست ہے۔

نزاعی معاملات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ یہ بحث کرنے لگتے ہیں کہ صحیح کون ہے، اور غلط کون۔ نزاعی معاملات میں اس قسم کی بحث سرتا سر بے معنی ہے۔ نزاعی معاملات کو ہمیشہ عملی نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہئے۔ یعنی نزاع کو ختم کرنے کی عملی تدبیر کیا ہے۔ نزاعی معاملے میں صحیح اور غلط کی بحث چھیڑنا مسئلے کو بڑھاتا ہے، اور نزاعی معاملے میں عملی حل کا طریقہ اختیار کر نازاع کو فوراً ختم کر دیتا ہے۔ جلد ہی آزادی کے ساٹھ سال پورے ہو جائیں گے۔ مگر ابھی تک ملک میں مطلوب ترقی نہ ہوسکی جب کہ اس سے کم مدت میں سنگاپور اور ساؤتھ کوریا اور جاپان جیسے ملک اعلیٰ ترقی حاصل کر چکے ہیں۔

انسانی ترقی کے اعتبار سے دنیا کے ۷۷ ملکوں میں ہندوستان کا نمبرے ۱۲ واں ملک ۔ انڈیا میں اگر کہیں کچھ ترقی دکھائی دیتی ہے تو وہ آزادی کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ زمانی اسباب کی بنا پر ہے۔ اگر ملک میں سیاسی آزادی نہ آتی تب بھی یہ ترقیاں یقیناً موجود ہوتیں، ٹھیک اُسی طرح جیسے آزادی کے بغیر ہندوستان میں ریلوے، ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور اسٹیم انجن وغیرہ آچکے تھے۔

اس کا سبب میرے تجربے کے مطابق، یہ ہے کہ آزادی کے وقت ملک میں تعمیر و ترقی کا کام صحیح رخ پر شروع نہ ہوسکا۔ مہاتما گاندھی کا خیال تھا کہ سیاسی آزادی اپنے آپ میں ہر قسم کی بھلائیوں کا سر چشمہ ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ یہ اندازہ صحیح نہ تھا۔ نہرو حکومت کا تصور یہ تھا کہ اقتصادیات پر حکومت کا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page