Why hate bombing is super haram in Islam.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۲۵
کنٹرول ہرفتم کی بھلائی کا سرچشمہ ہے۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ تشخیص بھی درست نہ تھی۔ اسی طرح انتہا پسند ہندو لیڈروں کا ماننا یہ تھا کہ بھگوا کرن (saffronisation) ہندوتو کے فارمولے میں ساری بھلائیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ مگر وہ بھی عملی تجربے کے بعد ناکام ثابت ہوا۔
میرا نظریہ اس معاملے میں مختلف ہے۔ اس موضوع پر میں ۱۹۷۲ سے لکھتا رہا ہوں۔ میری رائے یہ ہے کہ آزادی ملنے کے بعد فوراً ملک میں دو نکاتی پروگرام چلانا چاہیے تھا۔ تعلیم اور انفرااسٹرکچر۔ ہر دوسری چیز کو موخر کر کے پہلا کام یہ کرنا تھا کہ سارے ملک میں تعلیم کا جال بچھا دیا جائے۔ تعلیم کے مواقع اتنا زیادہ کیے جائیں کہ کوئی شخص تعلیم کے بغیر نہ رہے۔ اور دوسری چیز اچھا انفرااسٹرکچر یعنی سڑکیں، بجلی، ٹیلی فون، وغیرہ۔ سنگاپور، ساؤتھ کوریا اور جاپان میں جو ترقی ہوئی ہے وہ اسی دو نکاتی فارمولے کا نتیجہ ہے۔
تعلیم کی اہمیت یہ ہے کہ وہ آدمی کو با شعور بناتی ہے۔ وہ آدمی کو حیوانی سطح سے اٹھا کر انسانی سطح تک پہنچاتی ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ کسی قوم کے خواص اپنے عوام کو اعلی افکار اور تجربات سے باخبر کر سکیں۔ جس سماج میں تعلیم نہ ہو وہاں خواص اور عوام کے درمیان ایک قسم کا فکری بُعد (intellectual gap) پیدا ہو جائے گا۔ عوام اپنے خواص کے تجربات میں حصے دار نہ بن سکیں گے۔ خواص کی اہمیت یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کے لیے ذہن ساز گروہ (opinion maker group) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس سماج میں لوگ تعلیم یافتہ ہوں تو وہ اتنے باشعور ہوں گے کہ وہ آسانی کے ساتھ اپنے خواص کی باتوں کو سمجھیں گے اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی کی تعمیر کریں گے۔ مگر جس سماج میں تعلیم عام نہ ہوئی ہو وہاں گویا تعمیر و ترقی کے عمل کا آغاز ہی مشکل ہو جائے گا۔ مثلاً تعمیر و ترقی کے آغاز کے لیے ابتدا میں کچھ سخت فیصلے (hard decisions) لینے پڑتے ہیں۔ سماج کو اتنا باشعور ہونا چاہیے کہ وہ ان فیصلوں کو قبول کر سکے۔ مگر جب سماج کے لوگ باشعور نہ ہوں تو ہر ایسے موقع پر وہ بھڑک کر تعمیر و ترقی کے کام کو روک دیں گے۔
انفرااسٹرکچر کی اہمیت کسی سماج میں وہی ہے جو کسی گاڑی میں اُس کے پہیے کی ہوتی ہے۔ اگر
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues