آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۶
اور ایک مومن ومسلم کے لیے جہاد بمعنی قتال اس وقت تک فرض ہے جب تک کہ دنیا میں غیر قوموں کا غلبہ موجود ہے۔ تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
” آپ نے جہاد کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا، اس کا حاصل میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی غیر مسلم حکومت اپنے ملک میں تبلیغ کی اجازت دے دے تو اس کے بعد اس سے جہاد کرنا جائز نہیں رہتا۔ اگر یہی آپ کا مقصد ہے تو احقر کو اس سے اتفاق نہیں۔ تبلیغ اسلام کے راستے میں رکاوٹ صرف اس کا نام نہیں کہ غیر مسلم حکومت تبلیغ پر قانونی پابندی عائد کردے، بلکہ کسی غیر مسلم حکومت کا مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ پر شوکت ہونا بذات خود دین حق کی تبلیغ کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے‘۔ آگے چل کر لکھتے ہیں: ” لہٰذا کفار کی اس شوکت کو توڑنا جہاد کے اہم ترین مقاصد میں سے ہے۔ ‘‘ (ص۔ ۳۰۱، فقہی مقالات، جلد سوم) (حافظ ابوالحکم محمد دانیال، بہار)
جواب
جہاد (بمعنی قتال) کا کوئی تعلق نہ مانعین دعوت کے خلاف لڑنے سے ہے اور نہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ شوکتِ اسلام (بالفاظ دیگر شوکتِ مسلمین) کے قیام کی راہ میں حائل ہوں ان کے خلاف لڑائی کی جائے۔ یہ سب جہاد کی خود ساختہ تعبیریں ہیں جن کا قرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاد اصلاً پر امن دعوتی جدوجہد کا نام ہے۔ یہ بات قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر ثابت ہوتی ہے: وجاهد هم به جهاداً كبيراً (الفرقان: ۵۲) یعنی غیر مسلموں پر قرآن کے ذریعے دعوت و تبلیغ کی پر امن جد و جہد کرو۔ جہاں تک قتال (جنگ) کا تعلق ہے، وہ اسلام میں صرف ایک مقصد کے لیے جائز ہے، اور وہ حملے کی صورت میں دفاع ہے۔ اس دفاع کی بھی دو لازمی شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ دفاع کا کام صرف ایک قائم شدہ حکومت کرے گی۔ کسی غیر حکومتی گروہ کو کسی بھی حال میں مسلح جہاد کی اجازت نہیں۔
آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ شوکتِ اسلام کا لفظ بولتے ہیں، حالاں کہ اس سے مراد صرف شوکتِ مسلمین ہوتا ہے۔ جہاں تک شوکتِ اسلام کا تعلق ہے، وہ ابدی طور پر بالفعل قائم ہو چکا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues