Al-Risala · June 2006 · page 26

Why hate bombing is super haram in Islam.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۲۶

پہیہ ہو تو گاڑی چلے گی اور اگر پہیہ موجود نہ ہو تو گاڑی اپنا سفر ہی شروع نہ کر سکے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی ترقی چاہتا ہے۔ ہر مرد اور عورت کے اندر بے پناہ حد تک یہ جذبہ ہے کہ وہ ترقی کے سفر کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھے۔ ایسی حالت میں ضرورت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے لیے اچھا انفراسٹرکچر فراہم کر دیا جائے۔ اس کے بعد ہر آدمی خود اپنی فطرت کے زور پر ترقی کی طرف دوڑنے لگے گا۔

جیسا کہ معلوم ہے، مغربی ملکوں میں شہر اور گاؤں کے درمیان وہ فرق نہیں ہے جو انڈیا جیسے ملکوں میں دکھائی دیتا ہے۔ سہولیات کے اعتبار سے وہاں کے گاؤں کی حالت تقریباً ویسی ہی ہے جیسا کہ وہاں کے شہر کی حالت ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ شہر میں زیادہ پھیلاؤ ہے۔ جب کہ گاؤں کی حیثیت ایک چھوٹی دنیا کی ہے۔

ان ملکوں میں یہ کیا گیا کہ انھوں نے شہر سے لے کر گاؤں تک ہر جگہ اچھی سڑکیں پھیلا دیں۔ ہر جگہ بجلی کا اعلیٰ انتظام کیا گیا۔ ٹیلی فون کا نظام ہر جگہ بہترین طور پر موجود ہے۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں جو ترقیاتی عمل میں ذریعے کی حیثیت رکھتی ہیں وہ ہر جگہ اعلیٰ پیمانے پر موجود ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی کا راز یہی انتظام ہے۔

اصل یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک ترقی طلب حیوان (progress-seeking animal) ہے۔ وہ خود اپنے اندرونی جذبات کے زور پر ترقی کی طرف دوڑنا چاہتا ہے۔ اس لیے ترقی کے عمل میں اصل ضرورت یہ ہے کہ انسان کو تعلیم یافتہ بنا دیا جائے اور اس کے لیے عمدہ انفراسٹرکچر فراہم کر دیا جائے۔ اس کے بعد انسان خود ہی ترقی کی طرف دوڑنے لگے گا۔ بدقسمتی سے انڈیا میں اس راز کو سمجھا نہیں گیا۔ ہمارے لیڈر ترقی کے فطری فارمولے سے بے خبر رہے۔ وہ اپنا خود ساختہ فارمولا آزماتے رہے۔ اسی غیر فطری طریقے کا یہ نتیجہ ہے کہ انڈیا میں ترقی کا عمل درست طور پر جاری نہ ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر ہند کے تمام لیڈروں، مسلم اور غیر مسلم دونوں پر وہ الفاظ صادق آتے ہیں جو میں نے ایک بار ماہنامہ الرسالہ کے صفحۂ اول پر شائع کیے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page