Why hate bombing is super haram in Islam.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷
تھے: خوش فہم آدمی ایسے سفر کے اختتام کا انتظار کرنے لگتا ہے جس کا ابھی اُس نے آغاز بھی نہیں کیا۔ ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں اقتصادی ترقی کے کئی ماڈلوں کا تجربہ کیا گیا ہے۔ مثلاً روس کا ماڈل جو مکمل اسٹیٹ کنٹرول کے اصول پر مبنی تھا۔ انڈیا کا ماڈل جو مکسڈ اکانومی (mixed economy) کے اصول پر مبنی تھا۔ امریکہ کا ماڈل جو آزاد کمپیٹیشن کے اصول پر مبنی تھا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ روس اور انڈیا کا ماڈل قابلِ بقا (sustainable) ثابت نہ ہو سکا اور ناکام ہو گیا۔ اس کے برعکس، امریکہ کا ماڈل دو سو سال سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ کسی سسٹم کے صحیح یا غلط ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ قابلِ بقا ثابت ہو۔ جو سسٹم قابلِ بقا ثابت نہ ہو وہ غیر فطری ہے۔ اور کسی سسٹم کا غیر فطری ہونا ہی اس کو قابلِ ردِ قرار دینے کے لیے کافی ہے۔
میں نے مزید کہا کہ کسی سسٹم کو آئیڈیل سے جانچا نہیں جا سکتا۔ کیوں کہ اس دنیا میں آئیڈیل سرے سے قابلِ حصول ہی نہیں۔ اس دنیا میں کسی سسٹم کو لینے کے لیے صرف یہ دیکھا جائے گا کہ وہ قابلِ عمل ہے یا نہیں۔ کسی سسٹم کو آئیڈیل سے جانچنا تخیل پسند آدمی کا کام ہو سکتا ہے، مگر وہ حقیقت پسندانہ آدمی کا کام نہیں۔
۲۵ جنوری ۲۰۰۶ کی شام کو پروگرام ختم ہو گیا۔ انسٹی ٹیُوٹ والوں کا کہنا تھا کہ رات کو میں وار دھا میں ٹھہروں اور اگلی صبح کو یہاں سے روانہ ہو کر ناگپور جاؤں۔ لیکن میں نے یہ طے کیا کہ اس وقت شام کو مجھے ناگپور چلے جانا چاہیے۔ اس طرح واردھا سے روانہ ہو کر ۲۵ جنوری کی شام کو مغرب کے بعد ناگپور پہنچا۔
ناگپور میں میرا قیام مسٹر عبد السلام اکبانی صاحب کے مکان پر تھا۔ یہاں جسٹس ایم۔ ایم۔ قاضی (ریٹائرڈ) بھی آگئے۔ ان لوگوں کے ساتھ رات کا کھانا مسٹر عبدالسلام اکبانی کے گھر پر کھایا۔ اس کے بعد ہم لوگ دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ حسبِ معمول میں نے جسٹس ایم۔ ایم۔ قاضی سے پوچھا کہ آپ اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کچھ تجربات بتائے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے مجھے آپ کے بعض خیالات کو ماننے میں تردّد ہوتا تھا۔ مگر اب تجربات کے بعد میں آپ سے متفق ہو گیا ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues