Why hate bombing is super haram in Islam.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۲۸
ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی اصلاح کا کام کسی قسم کے عملی پروگرام سے نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمانوں کی اصلاح کا حقیقی کام صرف اُس فکری جدوجہد سے ہوسکتا ہے جس کو آپ ذہن کی تعمیر نو (re-engineering of mind) کہتے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کی کمزوریاں کسی خارجی دشمن کی بنا پر نہیں ہیں وہ صرف مسلمانوں کے اپنے فکری زوال کی بنا پر ہیں۔ اور جب تک فکری کی سطح پر انقلاب نہ لایا جائے خارجی سطح پر کوئی انقلاب نہیں آسکتا۔
بہت پہلے جب کہ میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ ایک دن ٹرین سے سفر کرتے ہوئے کچھ گاؤں کے لوگ ملے۔ یہ لوگ زمین کے ایک مقدمے کے سلسلے میں اعظم گڑھ جارہے تھے تاکہ وہاں عدالت میں پہنچ سکیں۔ ایک بوڑھے آدمی نے اپنے کیس پر بات کرتے ہوئے کہا: آپن کا گد تو پورا رہو (اپنا کاغذ تو پورا رہے)۔ اس آدمی کا مطلب یہ تھا کہ میں نے کاغذی کارروائی کرکے قانونی شرطوں کو پورا کر لیا ہے۔ اب عدالت میں میرا معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔ یہی معاملہ آج کل کے مسلمانوں کا ہے۔ ہر ایک نے اپنے اپنے دائرے میں ”کاغذی کارروائی“ کو پورا کر رکھا ہے۔ ہر ایک اپنے ذہن کے مطابق اپنے لیے ایک محفوظ دنیا بنائے ہوئے ہے۔ اس طرح ہر ایک فرضی یقین (false conviction) میں جی رہا ہے۔
کوئی روایتی مذہب پر قائم ہے۔ کوئی فارم والی بے روح دین داری پر عامل ہے۔ کوئی کسی درگاہ میں حاضری دے رہا ہے۔ کوئی کسی مسجد اور مدرسے سے جڑا ہوا ہے۔ کوئی کسی جماعت کو پکڑے ہوئے ہے۔ کوئی کسی بزرگ کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ کوئی کسی کمیونٹی ورک میں مشغول ہے۔ کوئی تقریر اور تحریر کے میدان میں مصروف جہاد ہے، وغیرہ۔
ان چیزوں نے لوگوں کے اندر اپنے ہدایت یاب ہونے کا فرضی یقین پیدا کر دیا ہے۔ یہ فرضی یقین اس میں رُکا وٹ بن گیا ہے کہ وہ نئی باتوں پر سوچیں ، وہ اپنے ذہنی خول کو توڑ کر کوئی نئی رائے بنانے کی کوشش کریں۔
فجر کی نماز کے بعد دوبارہ ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا۔ عبد السلام اکبانی کے صاحب زادے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues