Al-Risala · June 2006 · page 29

Why hate bombing is super haram in Islam.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۲۹

مسٹر زبیر احمد کمبانی ایک ذہین اور سنجیدہ نوجوان ہیں، اُن سے بھی کافی باتیں ہوئیں۔ مدرسے سے تعلق رکھنے والے دو صاحبان ملے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اکثر لوگ اپنے ذہن میں ایک معیار قائم کرتے ہیں اور اس کی روشنی میں چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کو معیار بنایا جائے اور اس کی روشنی میں رائے قائم کی جائے۔ امام احمد بن حنبل نے اس نقطۂ نظر کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ایتونی بشی من کتاب اللہ حتی اقول۔ گفتگو کے دوران میں نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ آپ ماہ نامہ الرسالہ کا مطالعہ کیجئے۔ اس سلسلے میں میں نے ان لوگوں سے کہا کہ حدیث میں مؤمن کے بارے میں آیا ہے کہ: ان یکون بصیراً بزمانہ۔ میں نے کہا کہ الرسالہ لوگوں کو ’’بصیر زمانہ‘‘ بنانے کی ایک کوشش ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ ہر بات قرآن اور حدیث سے اخذ کرنا چاہیے پھر قرآن اور حدیث میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ماہ نامہ الرسالہ پڑھو۔

میں نے کہا کہ ہمارے علما یہ مانتے ہیں کہ علوم دو قسم کے ہیں— علوم عالیہ اور علوم آلیہ۔ میں نے کہا کہ اس تقسیم کے مطابق، ماہ نامہ الرسالہ کا تعلق علوم آلیہ سے ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ علماء کے نزدیک، علوم آلیہ کی اہمیت علمی طور پر اتنی زیادہ ہے کہ ان کی تحصیل کے بغیر آپ لوگوں کو مدارس میں عالم اور فاضل کی سند نہیں ملتی۔ اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔

ایک صاحب سے میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: قل ربی اللہ ثم استقم (کہو کہ اللہ میرا رب ہے اور پھر اس پر جم جاؤ) اس سے معلوم ہوا کہ معرفتِ خداوندی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی تاحیات اس پر قائم رہے۔ تاحیات قائم رہنا کوئی سادہ بات نہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں ہر وقت کوئی نہ کوئی بات ایسی پیش آتی ہے جو آدمی کو سچائی کے راستے سے ہٹا دے۔ کسی وقت کوئی خواہش جاگتی ہے۔ کبھی کسی بات پر دل کو ٹھیس لگ جاتی ہے۔ کبھی کوئی ایسی خلاف مزاج بات پیش آتی ہے جو آدمی کی انانیت کو جگا دیتی ہے۔ کبھی کوئی انٹریسٹ (مفاد) آدمی کو اصولی روش سے ہٹا دیتا ہے۔ کبھی کسی بڑے فائدے کی امید آدمی کے اوپر غالب آ جاتی ہے۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page