Why hate bombing is super haram in Islam.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۳۰
طرح کی مختلف چیزیں بار بار سامنے آتی ہیں۔ یہ باتیں آدمی کے ایمان اور استقامت کو ڈگمگادیتی ہیں۔ وہ اللہ کی ربوبیت پر ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آدمی روزہ اور نماز جیسے اعمال کے ذریعے جنت کا مستحق بن جاتا ہے۔ رہے گناہ تو وہ استغفار کے ذریعے معاف ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص اگر جمعہ کی نماز عصر کے بعد ۸۰ مرتبہ یہ درود پڑھے تو اس کے ۸۰ سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے:
اللهم صلّ على محمد بن النبی الأمّی وعلى آله وسلّم تسليماً میں نے کہا کہ یہ بلاشبہ دین خداوندی کا غلط تصوّر ہے۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں اَمَانِی (البقرہ: ۱۱۱) کہا گیا ہے۔ یعنی اپنی خوش خیالیوں کو خدا کا دین سمجھ لینا۔ جس چیز کو آپ اعمال کہہ رہے ہیں وہ دراصل ظواہر اعمال یا اعمال کے فارم ہیں۔ جنت کا استحقاق کسی بھی قسم کی ظاہری اعمال کی ادائیگی یا کسی بھی قسم کے الفاظ کی لسانی تکرار پر نہیں ہے بلکہ قرآن کے مطابق، وہ سرتا سرجنتی شخصیت کی تعمیر پر منحصر ہے۔
قرآن میں جنت کے بارے میں ہے کہ: ذلک جزاء من تزکّی (طہ: ۷۶)۔ یعنی جنت اُس شخص کے لیے جو اپنا تزکیہ کرے۔ تزکیہ سے مراد داخلی شخصیت کی تطہیر ہے۔ جنت میں صرف مطہّر روح (purified soul) کو جگہ ملے گی۔ مطہّر روح وہ ہے جس نے افکار کے جنگل میں خدا کی معرفت حاصل کی۔ جس نے فراموشی کی دنیا میں خدا کی گہری یاد کا تجربہ کیا۔ جس کو اجتماعی زندگی میں منفی تجربات ہوئے مگر اس نے ان منفی تجربات کو اپنے لیے مثبت روحانی غذا میں ڈھال لیا۔ جس نے غیب میں خدا کا مشاہدہ کیا۔ جس نے اپنی خواہشات کو خدا اور رسول کے تابع بنا دیا۔ جو اس طرح جنت کا طالب بنا کہ دوسری تمام محبوب چیزیں اس کے لیے غیر اہم بن گئیں۔ یہی تزکیہ نفس ہے، اور اس تزکیہ نفس کے بغیر کسی کو جنت ملنے والی نہیں۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حدیث کو سمجھنے کے لیے صرف الفاظ کا علم کافی نہیں ہے۔ قرآن کی طرح، حدیث کا بھی ایک ظاہر ہوتا ہے اور دوسرا اس کا باطن ہوتا ہے۔ حقیقت
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues