Al-Risala · June 2006 · page 31

Why hate bombing is super haram in Islam.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۳۱

یہ ہے کہ حدیث کی داخلی معنویت کو سمجھے بغیر حدیث کو گہرائی کے ساتھ سمجھا نہیں جاسکتا۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق جنتی انسان کی ایک پہچان یہ ہے کہ: قلبہ معلق بالمساجد۔ یعنی اس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو۔ عام طور پر اس حدیث کو مسجد کی عمارت سے وابستہ کر کے لیا جاتا ہے۔ یعنی مسجد میں آنا، جانا اور مسجد کی خدمت کرنا وغیرہ۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث کا مطلب ہے قلبہ معلق باللہ۔ یعنی وہ انسان جس کا دل اللہ میں لگا ہوا ہو۔ وہ اللہ کو یاد کرتا رہے۔ زندگی کے ہر تجربے میں اس کو ربانی غذا ملتی رہے۔ اس کے جذبات اللہ سے وابستہ ہو گئے ہوں۔ وہ جہاں بھی ہو اور جس ماحول میں بھی ہو اس کا دل خدا کی یاد میں سرشار ہو۔ اس حدیث کا مطلب حقیقتاً خدا سے انسان کے تعلق کو بتانا ہے نہ کہ کسی عمارتی ڈھانچے سے اس کے تعلق کو بیان کرنا۔ مسجد کی اہمیت یہی ہے کہ وہ خدا کی یاد کی علامت ہے۔ مسجد معروف معنوں میں کوئی مقدس عمارتي ڈھانچہ نہیں۔ وہ اللہ میں جینے کی تربیت حاصل کرنے کا مرکز ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ قدیم زمانے میں مسلمانوں نے بڑی بڑی ترقیاں کیں۔ وہ علوم اور فنون میں ساری دنیا کے امام بن گئے۔ پھر انھوں نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی علمی پستی کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ مسلم دشمنوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ ہم اعلیٰ ترقی کے درجے تک پہنچیں۔ اس لیے وہ ہر پہلو سے ہم کو نیچے دھکیلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ دشمنی اور رقابت ایک عمومی حالت ہے۔ وہ ہر دور میں باقی رہتی ہے۔ قدیم زمانے میں جب مسلمانوں نے ترقی کی، تب بھی ان کے دشمن موجود تھے اور دشمنوں کی دشمنانہ کارروائیوں کے باوجود انھوں نے ترقیاتی کام کیا۔ اسی طرح آج بھی مسلمانوں کو منفی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ترقی کرنا چاہیے۔ انھوں نے اس نقطۂ نظر کو نہیں مانا اور دیر تک بحث کرتے رہے۔ آخر میں یہ کہہ کر بات ختم کر دیا کہ یہ بھی ایک ڈائمینشن ہے، یعنی یہ بھی سوچنے کا ایک طریقہ ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ غلطی کا اعتراف کرنا نہیں جانتے۔ وہ خوب صورت الفاظ بول کر اپنی غلطی پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں۔ ایسا کر کے وہ بظاہر ہوشیاری کر رہے ہوتے ہیں مگر وہ زبردست

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page