Why hate bombing is super haram in Islam.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۳۲
نادانی ہے۔ کیوں کہ اس بے اعترانی کی انھیں بھاری قیمت دینی پڑتی ہے۔ اور وہ یہ کہ ان کا علمی اور فکری ارتقا رک جاتا ہے۔
حیدر آباد سے ایک مجلہ ’’اقبال ریوِیو‘‘ کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ نومبر ۲۰۰۵ میں ایک مضمون نظر سے گذرا۔ اس کا عنوان یہ تھا سید جمال الدین الہ آبادی۔ لکھنے والے مولانا ابوالکلام آزاد تھے۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے:
’’مشہور ہے کہ جب پیرس میں روسی سفیر نے سید جمال الدین افغانی سے ملنا چاہاتو انھوں نے ملاقات کی تاریخ ایسی مقرر کی جو دو ہفتے بعد آنے والی تھی۔ اس کے بعد وہ ایک کتب فروش کے یہاں گیے اور اس سے کہا۔ مجھے فرانسیسی میڈیم میں، روسی زبان سکھانے والی کتاب چاہیے۔ میں اس کو خرید لوں گا۔ بشرطیکہ تم اس کا بھی انتظام کر دو کہ آج سے ایک ہفتے بعد کوئی روسی زبان بولنے والا آدمی مجھ سے ملاقات کر سکے۔
کتب فروش نے کتاب بھی دی، اور ایک ایسے شخص کا انتظام بھی کر دیا جو اس کے یہاں ملازم تھا۔ جمال الدین افغانی نے ایک ہفتے تک بطور خود کتاب دیکھی۔ پھر آٹھویں دن سے چودھویں دن تک روز ایک گھنٹہ اس سے روسی زبان میں باتیں کرتے رہے۔ اور پھر پندرہویں دن وہ تیار ہو گیے تھے کہ روسی سفیر سے بغیر کسی مترجم کی وساطت کے ملاقات کریں۔ ‘‘ (صفحہ: ۱۷) میری معلومات کے مطابق، سید جمال الدین افغانی کی سب سے بڑی صفت یہ تھی کہ وہ انتہائی غیر معمولی حافظہ رکھتے تھے۔ اسی بنا پر انھوں نے بہت سی زبانیں سیکھ لیں۔ وہ جو کتاب بھی پڑھتے وہ انھیں یاد ہو جاتی۔ اپنی اس خصوصیت کی بنا پر ان کا یہ حال تھا کہ وہ مختلف زبانوں میں بات کر سکتے تھے۔ مزید یہ کہ جب وہ بات کرتے تو ان کی بات میں معلومات کا انبار ہوتا تھا۔ اس بنا پر لوگ ان کو بہت زیادہ قابل سمجھنے لگے۔ مگر یہ غیر معمولی قابلیت کی بات نہ تھی بلکہ یہ غیر معمولی حافظے کی بات تھی۔
میرا تجربہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر غیر معمولی حافظے کی صلاحیت ہوتی ہے، وہ تجزیہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues