Al-Risala · June 2006 · page 33

Ideal can not be achieved.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۳۳

(analysis) کی صلاحیت سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے پاس معلومات ہوتی ہے مگر وہ معلومات کا تجزیہ کر کے اس سے کوئی با معنی نتیجہ نہیں نکال پاتے۔ ان کی گفتگو میں معلومات کا سیلاب ہوتا ہے۔ اس کو دیکھ کر لوگ غلطی فہمی میں پڑ جاتے ہیں اور ان کو قابل سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حیثیت کمپیوٹر جیسی ہوتی ہے۔ کمپیوٹر کے پاس بے شمار معلومات ہوتی ہیں مگر کمپیوٹر ایک قابل انسان کا بدل نہیں ہوتا۔ اس محلے میں ایک جگہ سید جمال افغانی کی تعریف کرتے ہوئے اقبال کے یہ الفاظ چھپے ہیں : ”ان کی بے چین روح ایک اسلامی ملک سے دوسرے اسلامی ملک کا سفر کرتی رہی، اور اس نے ایران، مصر اور ترکی کے ممتاز ترین افراد کو متاثر کیا۔ “ (صفحہ: ۶)

یہ واقعہ ان کی شخصیت کی اصل کمی کو بتاتا ہے۔ ایسا دراصل اس لیے ہوا کہ سید جمال الدین افغانی صاحب معلومات تو تھے مگر وہ صاحب معرفت نہ تھے۔ ان کو سحر بیانی تو آتی تھی مگر وہ معاملہ فہمی کی صلاحیت سے خالی تھی۔

اصل یہ ہے کہ سید جمال الدین افغانی جن مسلم ملکوں میں گئے، ان کی خطابت اور سحر بیانی کی بنا پر انھیں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ ان کی رسائی ہر جگہ حکومت کے قریبی حلقوں تک ہوگئی۔ لیکن ہر جگہ یہ ہوا کہ وہ حکومت مخالف کارروائیوں میں مشغول ہوگئے ۔ ہر مسلم حکومت انھیں معیار سے کم نظر آئی ۔ وہ اس کو معیاری بنانے کے لیے اس کی توڑ پھوڑ کے درپے ہو گئے۔ ایسا صرف ان کی بے دانشی کی بنا پر ہوا۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے کہ کمی خود ان کی سوچ میں ہے نہ کہ حکومتی نظام میں۔ سید جمال الدین افغانی مختلف زبانوں میں اپنی مہارت کے باوجود اس حکمت کو سمجھ نہ سکے جو ایک انگریزی مقولے میں اس طرح بیان کی گئی ہے— معیار قابل حصول نہیں:

Ideal can not be achieved.

سید جمال الدین افغانی کو مسلم حکمرانوں میں جو کمی نظر آئی وہ قانون فطرت کا نتیجہ تھی، وہ مسلم حکمرانوں کی نالا ئقی کا نتیجہ نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر سیاسی نظام، حتی کہ خود اسلامی نظام بھی، عملاً ہمیشہ اعلیٰ معیار سے کم (less than ideal) ہوتا ہے۔ کسی موجود سیاسی نظام کو غلط بتا کر اس کو توڑنے کی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page