Ideal can not be achieved.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۳۴
تحریک چلانا ہمیشہ اس نتیجے پرختم ہوتی ہے کہ اس کی جگہ دوسرا غیر معیاری نظام قائم ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام پر شعور سیاسی انقلابات کا نتیجہ صرف ایک ہوا ہے — ایک غیر معیاری نظام کو توڑ کر اس کی جگہ دوسرا غیر معیاری نظام لانا۔
ایسی حالت میں کسی مُصلحِ یارِ یفارمر کے لیے صحیح پالیسی یہ ہے کہ سیاسی نظام میں حالتِ موجودہ (statusquo) سے عدم تعرض کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے تعمیری میدانوں میں پُر امن جد و جہد کرنا، موجودہ دنیا میں یہی واحد طریقہ ہے جو کسی مثبت نتیجے تک پہنچانے والا ہے۔ ایک مسلم خاتون انڈیا میں پیدا ہوئیں۔ اس کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ کناڈا چلی گئیں۔ اب وہ کناڈا کے ایک شہر میں مسلم بچوں کا ایک اسکول چلاتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے اسکول کا مقصد مسلم بچوں کی اسلامی شناخت (Islamic Identity) کو برقرار رکھنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں مسلمان کافی آباد ہیں۔ ان کی کمائی بھی اچھی ہے، لیکن ان کی نسلوں کو ایک سخت خطرے کا سامنا ہے۔ وہاں مغربی تہذیب کا دباؤ (pressure) اتنا زیادہ ہے کہ مسلم نوجوان بڑی تعداد میں عیسائی ہو رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی تہذیب اور کلچر کے اعتبار سے عیسائی طریقہ اختیار کر لیتا ہے اور کوئی اپنے دین کو بدل کر باقاعدہ عیسائی بن جاتا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ دباؤ (pressure) کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ دراصل اسلام کی ناقص نمائندگی کا نتیجہ ہے۔ آپ جیسے مصلحین، اسلام کو جس طرح پیش کرتے ہیں وہ مسلم نوجوانوں کو صرف ایک کلچرل شناخت کا مسئلہ نظر آتا ہے۔ کلچرل شناخت ان کو کوئی بڑی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ ایک طرف ان کے سامنے مغربی تہذیب کی چمک دمک ہوتی ہے اور دوسری طرف اسلام صرف ایک رسمی شناخت یا بے روح فارم کا معاملہ نظر آتا ہے۔ اس تقابل کی بنا پر اُنھیں اسلام کی لکیر چھوٹی نظر آتی ہے اور مغربی تہذیب کی لکیر زیادہ بڑی۔ اس وجہ سے وہ اسلام کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ لوگ شناخت کی حفاظت کے مقصد کے تحت، اسکول قائم
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues