Al-Risala · June 2006 · page 35

Ideal can not be achieved.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۳۵

کریں۔ اس قسم کی کوشش گویا سیلاب کے آگے تنگوں کا بند بنانا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے وہ یہ کہ آپ اسلام کی تعلیمات کو وقت کے اسلوب اور اعلیٰ دلائل کے ساتھ پیش کریں۔ تا کہ مسلم نو جوانوں کو اسلام زیادہ عظیم، اور زیادہ بامعنی چیز نظر آنے لگے۔ میں نے کہا کہ ہم اسی نہج پر کوشش کر رہے ہیں اور اللہ کے فضل سے ہماری کوشش کامیاب ثابت ہوئی۔

مزید میں نے کہا کہ بیسویں صدی کے نصف اول میں کچھ مصلحین اُٹھے۔ مثلاً سید قطب، محمد اقبال اور سید ابو الاعلیٰ مودودی وغیرہ۔ ان لوگوں کو وقتی طور پر کچھ جزئی کامیابی ہوئی۔ مگر اب ان کا پیدا کردہ لٹریچر بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہو کر رہ گیا ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ بیسویں صدی کے نصف اول میں، مسلم دنیا میں مغربی قوموں کا سیاسی غلبہ ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو مغربی قوموں سے سخت قومی نفرت پیدا ہو گئی۔ اُس دَور کے مسلم مصلحین نے اِسی نفرت کو استعمال کیا۔ اُس وقت اُن کو مسلم نو جوانوں میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ اسی منفی نفسیات کے ماحول میں رَدِّ عمل کی بنا پر ہوئی۔ اُن کی مقبولیت منفی بنیاد پر قائم تھی نہ کہ مثبت بنیاد پر۔ اور منفی بنیاد پر قائم ہونے والی تحریک کبھی دیر پا ثبت نہیں ہوتی۔ ایک عربی مثل ہے کہ: لا حُبّ علي بل لَبغض مُعاوية (حُبّ علی کی وجہ سے نہیں بلکہ بغض معاویہ کی وجہ سے)۔ اس مثال کا تعلق صرف علی اور معاویہ کے معاملے سے نہیں ہے بلکہ یہ انسان کے عمومی مزاج کو بتاتی ہے۔ بیسویں صدی کے نصف اول کے سیاسی حالات میں مسلمان بغض مغرب کی نفسیات میں مبتلا تھے۔

ایسے ماحول میں جب اکبر الٰہ آبادی اور اقبال نے مغرب کے خلاف اشعار لکھے اور سید قطب اور سید ابو الاعلیٰ مودودی نے مغرب کے خلاف ادبی انداز میں تنقیدیں کیں۔ سید جمال الدین افغانی اور ابو الکلام آزاد نے جب مغرب کے خلاف پُر شور خطاب کا مظاہرہ کیا تو اُس وقت کی مخصوص نفسیات کی بنا پر مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کی طرف مائل ہو گئی۔ یہ مصلحین چوں کہ اپنے منفی کلام کے حق میں قرآن اور حدیث کے حوالے دیتے تھے، اس لیے لوگوں نے سمجھا کہ لوگوں کا یہ رجوع اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page