Al-Risala · January 2006 · page 27

آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷

ہے ۔ اس سلسلے میں ہمارا کام صرف یہ ہے کہ اسلام کے موافق جو دلائل ظاہر ہو چکے ہیں اُن کو ہر زمانے میں استعمال کرتے رہیں۔ اور جہاں تک شوکتِ مسلمین کا تعلق ہے، وہ سیاسی اعتبار سے آج ۷۵ مسلم ملکوں میں قائم ہے۔ مگر یہ ۷۵ مسلم ملک، بشمول پاکستان، شوکتِ اسلام کا ذریعہ نہ بن سکے۔ سوال جناب کی ہر تحریر ہر اور جملہ سبق آموز ہے۔ صرف مسلمان ہی کے لیے نہیں بلکہ ہر قوم، ہر ملت کے افراد کے لیے۔ قرآن مبین کے علاوہ روئے زمین پر جتنی کتابیں سطور نگار نے پڑھیں، آخر کتاب ختم کرنے کے بعد بات کی وضاحت ہوتی ہے یا پھر خلاصہ کلام پر۔ لیکن اس کے برعکس جناب کا ہر پیرا گراف نصیحت سے لبریز ہے۔ سطور نگار آں جناب سے التجا کرتا ہے کہ جناب کے سارے مقالات جو آپ نے اجتماعات میں پڑھے ہیں وہ سب بھی ایک کتابی شکل میں منظر عام پر آجائیں تو نوع انسانی کے لیے مفید ثابت ہوں ( محمد ہاشم رنگونی، لندن )

جواب

آپ نے جو تجویز پیش کی ہے وہ پہلے ہی عمل میں آ چکی ہے۔ راقم الحروف کے مقالات اور مضامین، انفرادی اصلاح اور اجتماعی اصلاح، دونوں کے بارے میں چھپ چکے ہیں۔ آپ ان کو حاصل کر کے ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اصل چیز کتاب چھاپنا نہیں ہے، بلکہ کتاب کو پھیلانا ہے۔ آپ جیسے لوگ اپنی ذمّے داری صرف یہ سمجھتے ہیں کہ کتاب چھاپنے کی تجویز پیش کرتے ہیں مگر یہ صحت مند سوچ نہیں۔ صحت مند سوچ یہ ہے کہ آپ یہ سوچیں کہ کتابیں تو چھپ چکی ہیں۔ اب ہماری یہ ذمّے داری ہے کہ ہم ان کتابوں کو لوگوں میں پھیلائیں۔

میرا تجربہ ہے کہ لوگ دوسروں کے سامنے تجویزیں تو خوب پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ اس معاملے میں خود اُن کی اپنی ذمّے داری کیا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان میرے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ فلاں موضوع پر کتاب تیار کر کے اس کو چھاپئے۔ میں نے کہا کہ میں نے بہت

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page