Al-Risala · June 2006 · page 36

Ideal can not be achieved.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۳۶

کی طرف رجوع ہے۔ حالاں کہ یہ سارا معاملہ ’’بغضِ معاویہ‘‘ کی نفسیات کے تحت تھا نہ کہ ’’حب علی‘‘ کی نفسیات کے تحت۔

میں نے کہا کہ اس قسم کی منفی تحریکیں کبھی کوئی مثبت نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں۔ مثبت نفسیات سے منفی کردار کا ابھرنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا کہ ببول کے بیج سے انگور کا پھل پیدا ہونا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، مسٹر اور مولوی، دونوں ایک بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانے پر اسلامی بیداری آئی ہے۔ حتیٰ کہ یہ لوگ موجودہ زمانے کے عہد کو اسلامی بیداری کا عہد کہتے ہیں۔ یہ نظریہ صرف ایک بے بنیاد خوش فہمی پر قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ مسلمانوں کے لیے اسلام سے دوری کا زمانہ ہے نہ کہ اسلام سے قربت کا زمانہ۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعداد جب بہت زیادہ ہو جائے تو ان کے درمیان ہر کام اسلام کے نام پر ہونے لگتا ہے۔ اس بنا پر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سارا کام اسلامی کام ہے۔ حالاں کہ یہ سب کام قومی کام ہوتا ہے نہ کہ حقیقتاً اسلامی کام۔

موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں مسلمان پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہے۔ اپنی قومی روایات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ جب بھی کوئی کام کرتے ہیں تو اس کو اسلام کے نام پر کرتے ہیں۔ مثلاً اسلامی اسکول، اسلامی کالج، اسلامی یونیورسٹی، اسلامی یتیم خانہ، اسلامی وقف، اسلامی ریڈیو، اسلامی ٹی وی، اسلامی صحافت، اسلامی بینکنگ، اسلامی سیاست، اسلامی اجتماع، اسلامی نقل وحرکت، اسلامی مشن، اسلامی تحریک، اسلامی ملک، اسلامی لٹریچر، اسلامی ادارہ اور اسلامی مدرسہ، وغیرہ۔ گہرائی سے دیکھیے تو یہ سارے کام قومی کام ہوتے ہیں۔ وہ قومی جذبے کے تحت کیے جاتے ہیں، وہ کسی قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں، اسلام (بمعنی دین خداوندی) سے ان کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر اسلام کا لیبل ہونے کی وجہ سے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سارے اسلامی کام ہیں، وہ سب کام ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page