Ideal can not be achieved.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۳۷
اس معاملے میں غلط فہمی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے غلط کرائٹیرین (معیار) بنا ر کھے ہیں اسلام میں اصل کرائٹیرین رسول اور اصحاب رسول کا ہے۔ کوئی کام اسلامی ہے یا غیر اسلامی، اس کو سمجھنے کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ یہ کہ اس کو رسول اور اصحاب رسول کے نمونے کی روشنی میں جانچا جائے۔ اگر وہ اس نمونے کے مطابق ہے تو وہ اسلامی ہے اور اگر وہ اس نمونے کے خلاف ہے تو وہ غیر اسلامی ہے۔
ایک صاحب نے ایک معروف اسلامی مقرر کی بہت تعریف کی ۔ انھوں نے ان کی تقریروں کو بڑا اسلامی کام قرار دیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ان اسلامی مقرر کے جلسے میں خوب تالیاں بجتی ہیں کہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ خوب تالیاں بجتی ہیں۔
پھر میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ اور مدینہ میں خطاب کرتے تھے تو کیا وہاں تالیاں بجتی تھیں ۔ پھر میں نے پوچھا کہ ابو بکر صدیق اور عمر فاروق جیسے اصحاب رسول جب خطاب کرتے تھے تو کیا وہاں حاضرین کی طرف سے تالیاں بجتی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ یہی فرق یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ لوگوں نے اگر چہ ان کا نام اسلامی مقرر رکھا ہے مگر وہ اسلامی مقرر نہیں ہیں بلکہ وہ قومی مقرر ہیں۔
انھوں نے پوچھا کہ اسلامی مقرر اور قومی مقرر کے درمیان کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ اسلامی مقرر کی باتوں سے دلوں میں خدا کا خوف جاگتا ہے۔ لوگوں کے اندر تقویٰ اور خشیت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ لوگ خدا کی یاد میں تڑپ اٹھتے ہیں۔ جو تقریر اس قسم کی کیفیات پیدا کرے، اس کو سن کر تالیاں نہیں بجیں گی بلکہ آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں گے۔
اس کے برعکس، قومی مقرر کا معاملہ یہ ہے کہ وہ قومی جذبات کو غذا دیتا ہے۔ اس کو سن کر فخر کی نفسیات جاگتی ہے۔ اس میں اپنا قومی جھنڈا اونچا ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی لیے ایسے اسلامی مقرر کو قومی شیر کا خطاب دیا جاتا ہے۔ مگر اس قسم کی تقریروں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ وہ ایک قومی کاروبار ہے نہ کہ اسلام کی کوئی حقیقی خدمت ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues