Ideal can not be achieved.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۳۸
پھر میں نے کہا کہ حدیث کی روشنی میں دیکھیے تو اسلامی کام کے لیے ہمیں ایک واضح معیار ملتا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ جو کام کیا جائے اس سے لوگوں کے اندر دو چیزیں پیدا ہوں: تقوى الله وحُسْن الخلق (الترمذی) یعنی اللہ کا خوف، اور انسانوں کے ساتھ حُسنِ اخلاق۔ یہی کسی کام کی جانچ کا صحیح اسلامی معیار ہے۔
کسی کام کی حقیقت کو جاننا ہو تو یہ دیکھیے کہ اس سے وابستہ لوگوں کے اندر کس قسم کا مزاج پیدا ہورہا ہے۔ اگر ان کے اندر خدا سے خوف اور انسانیت عامہ کے ساتھ خیر خواہی کا مزاج بن رہا ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ صحیح اسلامی کام ہے۔ اور اگر اس کے ذریعے فخر، نمائش، کبر، اظہار برتری، خود غرضی اور غیر سنجیدگی جیسا مزاج بنتا ہو تو سمجھ لیجیے کہ یہ قومی کام ہے نہ کہ اسلامی کام۔ یہاں ایک سبق آموز واقعہ قابلِ ذکر ہے جو ایک قاری الرسالہ کے ساتھ پیش آیا۔ اس قاری الرسالہ کی شادی ایک دینی گھرانے میں ہوئی۔ مگر یہاں ایک بہت بڑا مسئلہ موجود تھا۔ خاتون کے بڑے بھائی نے اپنی پسند کے مطابق، ایک ماڈرن لڑکی سے شادی کرلی۔
یہ لڑکی جب گھر میں بہو کی حیثیت سے آئی تو گھر میں سنگین مسائل پیدا ہوگئے۔ کیوں کہ گھر کا رہن سہن روایتی انداز کا تھا، اور یہ لڑکی ماڈرن انداز میں رہنا چاہتی تھی۔ اس اختلاف کے نتیجے میں بہت سے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔ یہاں تک کہ گھر میں بول چال بند ہوگئی اور مذکورہ بھائی اپنی بیوی کو لے کر الگ رہنے لگے۔
بھائی کو کسی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی کہ یہ سارا جھگڑا میری بہن نے پیدا کیا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی بہن سے بولنا چھوڑ دیا۔ اس معاملے میں وہ اتنا زیادہ سخت ہو گئے کہ جب بہن کا نکاح ہوا اور وہ رخصت ہو کر اپنے گھر گئیں تو بھائی رخصتی کے وقت بھی ان سے ملنے کے لیے نہیں آئے۔ تعلقات میں بگاڑ کا یہ ماحول پورے سات سال تک جاری رہا۔
اس اثناء میں بہت سے علماء نے یہ کوشش کی کہ دونوں کے درمیان صلح ہو جائے، اور جھگڑا ختم ہو جائے۔ مگر صلح نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ علماء دو طرفہ بنیاد پر صلح کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues