Al-Risala · June 2006 · page 39

Ideal can not be achieved.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۳۹

فریقین سے کہتے تھے کہ ماضی کو بھلا دیجئے اور اچھے رشتے دار کی طرح باہمی تعلق قائم کرکے زندگی گذاریے۔ لیکن اس قسم کا وعظ فریقین کے لیے کسی طرح نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتا تھا۔ آخر کار الرسالہ کے مذکورہ قاری نے الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا۔ اس مضمون میں قرآن کی روشنی میں ، بتایا گیا تھا کہ نزاعی معاملات کبھی دو طرفہ بنیاد پر حل نہیں ہوتے۔ ان کو حل کرنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ ایک فریق اپنی غلطی کا اعتراف کرکے دوسرے فریق سے معافی مانگ لے۔ یہی یک طرفہ اعتراف اس طرح کے معاملے میں واحد مؤثر حل ہے۔

اس کے بعد مذکورہ قاری الرسالہ نے معاملے پر از سرِ نو غور کیا۔ انھوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اس طریقے کا تجربہ کرو۔ چناں چہ بیوی نے اپنے بھائی کے نام ایک خط لکھا۔ اس خط میں انھوں نے یک طرفہ طور پر کھلے انداز میں خود اپنی غلطی کا اعتراف کیا، اور بھائی سے کہا کہ میں مانتی ہوں کہ ساری صرف غلطی صرف میری تھی۔ اب میں آپ سے معافی مانگتی ہوں ، آپ مجھے معاف فرما دیں۔ اس سلسلے میں سارا قصور میرا ہے۔ آپ کا کوئی قصور نہیں۔ یہ میری ہی بد قسمتی تھی کہ میں رخصتی کے وقت بھی آپ سے مل کر آپ کی دعا نہ لے سکی۔

بہن کا یہ خط جب بھائی کے پاس پہنچا تو اس کو پڑھنے کے بعد اچانک ساری برف پگھل گئی۔ بھائی اور ان کی بیوی دونوں نے اس خط کو پڑھا اور دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ خط میں اگرچہ بہن نے اپنے آپ کو غلط بتایا تھا لیکن جب دل بدلے تو بھائی اور ان کی بیوی دونوں کو محسوس ہوا کہ غلطی در اصل انھیں کی تھیں۔

اس کے بعد بھائی نے نہایت محبت کے انداز میں اپنی بہن کو خط لکھا اور کہا کہ تمہارے خط کے بعد ہمارے دل کا تمام غبار دھل گیا ہے۔ اب میرے دل میں تمھارے لیے وہی محبت ہے جو ایک بھائی کے دل میں اپنی بہن کے لیے ہونا چاہیے۔ اسی کے ساتھ بھائی نے اپنی بہن کے لیے تحفے تحائف بھی بھیجے۔ انھوں نے اپنی بہن سے فون پر تفصیلی بات چیت کی ، اور رورو کر گہرے جذبات کے ساتھ معافی اور ندامت کا اظہار کیا۔ اب دونوں کے درمیان نارمل تعلقات قائم ہو گئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page