This is the thing we wanted most.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۴۱
بن گیا ہے۔ چنانچہ ان کی تازہ کتاب (چاؤس ڈکشنری) مارکیٹ میں آئی تو لوگوں نے صرف ٹائٹل دیکھ کر اس کو خرید لیا۔ ان کو یقین تھا کہ جس کتاب کا آتھر چاؤس ہے وہ یقیناً اچھی کتاب ہوگی۔ مسٹر عبد السلام چاؤس کے بھائی عبد الرحمن چاؤس (پیدائش ۱۹۷۵) انٹر نیشنل بک فہر کے تحت دہلی آئے۔ وہ اس بک بزنس میں اپنے بھائی کے ساتھ پوری طرح شریک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ اب ’’چاؤس برادرس‘‘ کے نام سے ہر جگہ مشہور ہو گئے ہیں۔ چاؤس کا نام اب عزت کا ایک نام بن گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ آپ کے بتائے ہوئے اصول’’دینے والے بنو‘‘ کا کرشمہ ہے۔ ہم نے اپنی زندگی میں اس کا عملی تجربہ کیا ہے۔ مراٹھی اسپیکنگ لوگوں کو ہم نے ایسی کتابیں دیں جو اُن کی ضرورت تھیں لیکن وہ مارکیٹ میں موجود نہ تھیں۔ چنانچہ ان کتابوں کی عمومی مقبولیت کی راہ میں کوئی فرقہ وارانہ تعصب حائل نہیں ہوا۔ ’’چاؤس بردرس‘‘ کو برابر اعتراف کے خطوط ملتے رہتے ہیں۔ حال میں ایک ہندو نے ان کی ایک کتاب کے بارے میں اپنے خط میں لکھا:
This is the thing we wanted most.
یہ لوگ اپنی کتابوں کے اشتہار انگریزی اور مراٹھی اخبارات میں دیتے ہیں۔ یہ تمام اخبارات ہندو لوگوں کے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا معاملہ حد درجہ کو آپریٹیو ہوتا ہے۔ مثلاً مسٹر بال ٹھاکرے کا مراٹھی اخبار’’سامنا‘‘ ایک ڈیلی اخبار ہے۔ اس میں ان کی کتابوں کے اشتہار چھپے ہیں۔ سامنا والوں نے ان کی اتنی زیادہ قدردانی کی کہ بہت زیادہ رعایتی ریٹ پر اُن کے اشتہارات چھاپنے لگے۔ عام مسلمان بال ٹھاکرے کو بطور خود مسلم دشمن سمجھتے ہیں۔ مگر چاؤس بردرس کے لیے وہ ایک بہترین دوست بن گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی کسی کا دشمن نہیں ہوتا۔ ہماری اپنی جھوٹی سوچ کسی کو اپنا دشمن سمجھ لیتی ہے۔ یہ لوگ مہاراشٹر کے انگریزی، مراٹھی اور ہندی اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار دیتے ہیں۔ ان کی بزنس کا بہت بڑا انحصار ان اخبارات پر ہے۔ ان تمام اخبارات کے مالک ہندو ہیں۔ مگر وہ ان لوگوں کے ساتھ بہت زیادہ رعایت کا معاملہ کرتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues