This is the thing we wanted most.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۴۲
ناگپور میں میری ملاقات مسٹر عبدالاسلام چاؤس سے ہوئی تو میں سب سے زیادہ متاثر ان کی سادگی سے ہوا۔ میں ان کے گھر پر بھی گیا۔ لیکن میں نے پایا کہ ان کی پوری زندگی حد درجہ سادگی کی زندگی ہے۔ مثلاً وہ اپنی آمدنی کے لحاظ سے بڑی گاڑی رکھ سکتے ہیں لیکن وہ ابھی تک ماروتی کی چھوٹی گاڑی استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کی پوری زندگی سادگی پر مبنی ہے۔ آمدنی کی نسبت سے ان کی سادہ زندگی ایک انوکھا نمونہ ہے۔
سادگی کا اصول انسان کی ترقی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ سادگی، آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اس کی نظر اصل نشانے سے ہٹنے نہ پائے۔ اس کا وقت اور اس کا پیسہ اور اس کی توجہ سب کا سب صرف ایک چیز پر خرچ ہو، اور وہ اس کی زندگی کا مقصد ہے۔ مسٹر عبدالرحمن چاؤس نے اس سلسلے میں کہا— با مقصد انسان ہمیشہ ایک قناعت پسند انسان ہوتا ہے۔ جس آدمی کے سامنے ایک مقصد ہو وہ دنیوی چیزوں کے معاملے میں ضرورت پر قناعت کر لیتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ سادگی کسی بھی انسان کی ترقی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ایک مقولہ ہے کہ— سادہ زندگی اور اونچی سوچ (Simple living, high thinking)۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بات کو زیادہ بامعنی طور پر اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ — سادہ زندگی اور بڑی ترقی: Simple living, high success. قدیم زمانے میں سادہ زندگی ایک عام چیز تھی۔ مگر موجودہ زمانے میں سادہ زندگی کے لیے سخت قسم کی شعوری جدوجہد درکار ہے۔ اس اعتبار سے موجودہ زمانے کا سب سے بڑا فتنہ کنزیومرازم (cunsumerism) ہے۔ قدیم ڈکشنری میں یہ لفظ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ آج کنزیومرازم نے ایک عمومی فتنے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ہر عورت اور مرد اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ لوگوں کی آمدنی کا بڑا حصہ کنزیومر گڈس (consumer-goods) کو حاصل کرنے میں ضائع ہو جاتا ہے۔ جو شخص کنزیومرازم کے اس فتنے سے اپنے کو بچا لے اس پر فانی بدایونی کا یہ شعر صادق آئے گا: فریب جلوہ اور کتنا مکمل، اے معاذ اللہ! بڑی مشکل سے دل کو بزمِ عالم سے اٹھایا پا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues