This is the thing we wanted most.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۴۳
اس شعر میں آخری مصرعے کو اگر اس طرح پڑھا جائے تو وہ صورت حال کے عین مطابق ہوگا: بڑی مشکل سے دل کو بزم شامنگ سے اٹھایا پا یا مسٹر عبدالسلام چاؤس کی ایک مراٹھی کتاب انگلش اسپیکنگ کے موضوع پر ہے۔ اس کتاب کا مراٹھی نام یہ ہے: انگریزی مدھیہ بولا پٹکن ، یعنی انگریزی یولو فوراً۔ اس کتاب کے ڈیڈیکشن میں انھوں نے اپنی بیوی کے بارے یہ الفاظ لکھے ہیں:
An uncommon woman, her full support which includes countless sacrifices, has made this book possible. یہ جملہ ایک چشم کشا جملہ ہے۔ اس میں ہر آدمی کے لیے سبق ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت کا رول کسی انسان کی زندگی میں فیصلہ کن رول کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی انسان کو آپ تباہ ہوتے ہوئے دیکھیں تو یقین کر لیجیے کہ اس کی تباہی میں سب سے بڑا عامل اس کی بیوی ہے۔ اسی طرح آپ کسی انسان کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھیں تو سمجھ لیجیے کہ اس کی کامیابی میں سب سے بڑا عامل اس کی بیوی ہے۔ یہ ایک ایسا عمومی اصول ہے جس میں شاید ہی کوئی استثناء ملے گا۔ میرے تجربے کے مطابق، اس اعتبار سے کسی عورت کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ صبر کی حد تک سادہ زندگی کو اختیار کرنے والی ہو۔ اس معاملے میں ایک رہنما مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے۔ حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ جب آپ مدینے میں تھے تو آپ کی ازواج نے آپ سے مزید نفقے کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں بہت سے واقعات کتابوں میں بیان کیے گئے ہیں، قرآن کی سورہ نمبر ۳۳ میں اس کا ذکر آیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ آیت کا ترجمہ یہ ہے:
اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ اگرتم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تم کو کچھ مال ومتاع دے کر خوبی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک کرداروں کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے (الاحزاب: ۲۸-۲۹) قرآن کی اس آیت میں ایک وقتی واقعے کے حوالے سے ایک عمومی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues