Al-Risala · June 2006 · page 44

This is the thing we wanted most.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۴۴

اصول یہ ہے کہ ــــ ایک با مقصد انسان (man of mission) پر تکلف زندگی کا تحمل نہیں کر سکتا۔ ایک با مقصد انسان کے لیے سادگی کسی مجبورانۂ روش کا معاملہ نہیں، سادگی اس کے لیے ایک عظیم اصول حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ با مقصد انسان کا سوچا سمجھا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنا سب کچھ مشن کی راہ میں لگانا ہے۔ ایسا آدمی ہمیشہ یہی کرے گا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں ہر پہلو سے سادگی کو اختیار کرے گا، اور اپنے مال کو صرف مشن کے فروغ میں لگائے گا۔

اس آیت میں پیغمبر اسلام کی ازواج کو یہی حقیقت یاد دلائی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ تم جس انسان کی زوجیت میں ہو وہ ایک صاحبِ مشن انسان ہے۔ وہ ساری دنیا کے لوگوں کے لیے جینے والا انسان ہے نہ کہ صرف اپنی ذات کے لیے جینے والا انسان۔ ایسی حالت میں تم کو جان لینا چاہیے کہ تم اگر رسول کی رفاقت چاہتی ہو تو تم کو سادہ زندگی پر راضی ہونا پڑے گا۔ پر راحت زندگی اور صاحبِ مشْن انسان کی رفاقت، دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

۲۶ جنوری ۲۰۰۶ کو شام کی فلائٹ کے ذریعے ناگپور سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ سفر سہارا ایر لائنز کی فلائٹ کے ذریعے ہوا۔ جیسا کہ اخباروں میں آ چکا ہے، سہارا ایر لائنز اب جیٹ ایئر لائنز میں شامل ہو جائے گی۔ اعلان کے مطابق، یہ شئر ایکوزیشن سمجھوتہ ہے۔ ۵۰۰ ملین ڈالر میں حصے داری خرید کا یہ سمجھوتہ ہوا ہے۔

انڈیا میں آج کل پرائیویٹ ہوائی کمپنیاں بہت بڑھ رہی ہیں۔ مگر انڈیا میں ہوائی سفر اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کو حکومت کے قبضے سے نکال کر مکمل طور پر پرائیویٹ کمپنیوں کو نہ دے دیا جائے۔ بظاہر یہ ایک مشکل کام معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ہندوستان میں تین بڑے ہوائی اڈوں کے متعلق، یہ بات عرصے سے چل رہی ہے مگر آج تک اس کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ جیسا کہ معلوم ہے چین ایک کمیونسٹ ملک ہونے کے باوجود بہت زیادہ ترقی کر رہا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اقتصادی معاملات کو پوری طرح پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیا ہے۔ اس کی ایک علامت یہ ہے کہ انڈیا میں تین بڑے ہوائی اڈوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں دینے کی تجویز ابھی تک

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page